اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 343
حضرت خلیفتہ صیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۴۳ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء احمدی خواتین کا تعلق باللہ اور قبولیت دعا کے نشانات ( جلسہ سالانہ مستورات جرمنی سے خطاب فرموده ۱۱ارستمبر ۱۹۹۳ء بمقام ناصر باغ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مذہب کا آخری مقصد اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے اور اگر یہ مقصد نہ رہے تو تمام مذہبی مصروفیات اور تمام مذہبی مشاغل محض ایک کھیل تماشارہ جاتے ہیں اور وہ درخت جو پھل سے محروم ہو خواہ اس کا نام پھلدار درخت ہی رکھا جائے عملاً وہ بے کار ہے اور جلائے جانے کے لائق ٹھہرتا ہے۔قرآن کریم نے ان لوگوں کے اعمال کا ذکر کرتے ہوئے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے اور وصال کے قائل نہیں ان کو جہنم کا ایندھن قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خشک لکڑیاں ہیں۔ایسے درخت نہیں ہیں جن کو پھل لگتے ہیں اور مومنوں کی جماعت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں کلمہ طیبہ کے طور پر ان کی مثال شجرہ طیبہ کے ساتھ رکھی ہے یعنی ایسا پاک درخت جس کی جڑیں گہری زمین میں پیوست ہوں اور جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہوں اور ہمیشہ ہر موسم میں خواہ وہ بہار ہو یا خزاں ہو اللہ کے حکم سے ان کی بلند و بالا شاخوں کو پھل لگتے ہوں۔اس پہلو سے ہر مذہب کا جائزہ ہونا چاہئے۔اگر کوئی مذہب سچا ہے تو اس مذہب کے پیروکاروں میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے نمونے ملنے چاہئیں اور یہ نمونے مردوں میں بھی ملنے چاہئیں اور عورتوں میں بھی ، بڑوں میں بھی اور چھوٹوں میں بھی۔اس پہلو سے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آج دنیا میں ایک زندہ مذہب کی زندہ مثال کے طور پر قائم ہے۔گزشتہ جلسہ سالانہ یو کے میں میں نے ایک مضمون شروع کیا تھا۔کہ احمدی خواتین سے خدا تعالیٰ کس طرح کثرت کے ساتھ رویا اور کشوف کے ذریعے اور بعض صورتوں میں الہامات کے