اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 326

خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات تین دن کے بعد یہ جو ہو گا۔اور اشارہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مصلح موعود کی طرف ہے آپ اس وقت صاحبزادہ مرزا محمود کہلاتے تھے تو اس گھبراہٹ کے نتیجے میں جو رویا آئی اس میں حضرت مرزا محمود احمد دکھائے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگلی سے اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ تین دن کے بعد یہ جو ہوگا۔اس پر ان کو گھبراہٹ ہوئی کہ شاید حضرت خلیفتہ اسی الاول کی زندگی تین دن تک ہی ہے لیکن شفا ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ اپنے فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف ہو گئے لیکن تین سال کے بعد آپ کا وصال ہوا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مرزا محموداحم منتخب ہو گئے۔تو تین دن سے مراد بعض دفعہ تین سال ہوتے ہیں لیکن جب خواب پوری ہوتی ہے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ بعض باتیں اشاروں میں تھیں اور وقت پر جب وہ اشارے ظاہر ہوتے ہیں تب انسان کو سمجھ آتی ہے۔اب میں نسبتا قریب کے دور میں آتا ہوں مگر اس طرح ادوار میں میں نے واقعات تقسیم نہیں کئے کچھ ملا جلا دیئے ہیں کبھی ہم واپس چلے جائیں گے۔مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں کبھی کسی اور خلیفہ کے دور میں۔ملا جلا کر گلدستے کے رنگ میں میں یہ واقعات آج آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔اوچ شریف سے زرینہ بیگم صاحبہ اہلیہ حکیم محد افضل صاحب لکھتی ہیں کہ کچھ عرصہ ہوا میں نے رات کے پچھلے حصے میں ایک خواب دیکھی کیا دیکھتی ہوں کہ جلسہ سالانہ پر ر بوہ گئی ہوں جلسہ پر لوگ کافی تعداد میں ہیں اور جلسہ گاہ اتنی بھر گئی ہے کہ باقی لوگ مکان کی چھتوں پر چڑھ بیٹھے ہیں۔میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضور اقدس یعنی حضرت مصلح موعود کی زیارت کر لوں۔کہتی ہیں میں وہاں گئی ہوں لیکن لوگ بہت سے ہیں جو زیارت کرنا چاہتے ہیں۔دروازے بند ہیں اور میں اندر نہیں جاسکتی۔پھر آخر مجھے اندر جانے کا موقع ملا۔حضرت مصلح موعودؓ ایک پلنگ پر لیٹے ہوئے ہیں اور پاس ہی سیّدہ بشری بیگم بیٹھی ہیں۔حضور کا چہرہ نور ہی نور تھا۔میرا دل دیکھ کر باغ باغ ہو گیا میں نے عرض کیا حضور سر مبارک پر تیل ملوں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔پھر عرض کی کیا حضور کے پاؤں دباؤں؟ حضور نے فرمایا نہیں۔پھر میں نے عرض کی کہ جلسہ گاہ میں لوگ انتظار میں بیٹھے ہیں۔حضور جلسہ گاہ میں تشریف لے چلیں تا کہ تقریر فرماویں۔اس پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا: ” اب میراحق نہیں ہے ناصر کا حق ہے۔“ چنانچہ اس رؤیا کے کچھ دیر بعد حضرت مصلح موعود کا وصال ہوا۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث یعنی مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کس کی بیٹی ہو۔میں عرض کرتی ہوں کہ میں رانا فیض بخش صاحب اسٹنٹ رجسٹرار کی بیٹی ہوں 66