اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 25
حضرت خلیفہ المسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۵ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء کو اختیار کروں گی۔چنانچہ اس کے بعد جتنی ازواج مطہرات تھیں سب نے یہی جواب دیا اور ایک مہینے کے بعد ایک نئی شان کے ساتھ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بسنے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورت کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت کا سلوک فرماتے تھے۔اس کے باریک جذبات کا خیال رکھتے تھے اور اس کی جسمانی کمزوری اور نزاکت کا بھی احساس رکھتے تھے۔ایک موقع پر جب اونٹنیوں پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر فرما رہے تھے تو ایک ایسی اونٹنی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سوار تھیں۔اس کے ہانکنے والے نے جس کا نام انجشہ تھا بہت تیزی کے ساتھ اُونٹنیوں کو ہنکایا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ آہستہ انجثہ قوارير قواریر۔شیشے سوار ہیں ان اونٹوں پر۔آہستہ چلو آہستہ چلو۔تو یہ جو محاورہ ہے کہ Glass with Care آج کل کے زمانے کا کہ شیشہ ہے احتیاط سے چلنا۔یہ سب سے پہلے چودہ سو سال قبل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔آپ کی ازواج میں سب سے پہلی زوجہ محترمہ حضرت اقدس خدیجہ رضی اللہ تعالی عنها تھیں۔آپ کو ایک ایسا خاص مقام حاصل تھا جس میں کبھی کوئی دوسری بیوی شریک نہ ہوسکی۔آپ سب سے پہلی تھیں تصدیق کرنے والی ، آپ وہ تھیں جن کے گھر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی وحی کے بعد جب بے قراری کا اظہار فرمایا تو آپ نے ان کو تسلی دی۔آپ نے یہ حکمت کی بات کہی کہ آپ کو کیا خوف ہے اپنے متعلق۔آپ تو وہ ہیں جو صلہ رحمی کرتے ہیں، آپ تو وہ ہیں جو کھوئے ہوئے اخلاق کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں، آپ تو وہ ہیں جو غریبوں اور مصیبت زدگان کے بوجھ اُٹھانے والے ہیں، کیا ایسے شخص کو بھی خدا ضائع کر دے گا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کوئی خوف کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔پھر یہ حضرت خدیجہ ہی تھیں جو شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی ساتھی تھیں اور چُھپ چُھپ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ ا کٹھے نماز ادا کیا کرتے تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر بھی اتنا رشک نہ کرتی تھی جتنا کہ خدیجہ پر حالانکہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کا بہت ذکر کیا کرتے تھے۔کبھی بکری ذبح کرتے تو اچھے ٹکڑے الگ کرتے اور بھون بھون کر خدیجہ کی سہیلیوں کو بھجوایا کرتے۔وہ کہتی ہیں کہ جیسے دُنیا میں خدیجہ کے سوا کوئی عورت ہی نہ ہوئی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ شکایت کرتیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح خیال رکھ رہے ہیں خدیجہ کا