اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 26

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۳ء جیسے خدیجہ کے سوا دنیا میں عورت ہی کوئی نہیں تھی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرماتے کہ وہ ایسی ہی تھی ، اور پھر اُس سے خدا نے مجھے اولا د بھی تو عطا فرمائی۔ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیوں خدیجہ کا بار بار ذکر کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اس سے بہتر بیویاں آپ کو مل گئی ہیں اب کیوں ذکر کرتے ہیں۔تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہر گز نہیں اُس سے بہتر کیسے ممکن ہے۔جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے میری تصدیق کی ، جب لوگ کافر تھے وہ اسلام لائیں ، جب میرا کوئی مددگار نہ تھا دنیا میں تو انہوں نے میری مدد کی اور پھر ان کے بطن سے میری اولا د بھی ہوئی۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۶ ص ۱۱۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ سے جو تعلق تھا اس کی تفصیل تو احادیث میں موجود نہیں ہے۔گھر میں کس طرح رہتے تھے اور کیسے حسن سلوک فرمایا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے کا کوئی راوی ہی ایسا نہیں جو اس وقت مسلمان ہو چکا ہو اور قریب سے اس نے گھریلو زندگی پر نظر ڈالی ہو۔ہاں حضرت خدیجہ کے وصال کے بعد جو حضور کی قلبی کیفیت تھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں کیا سلوک فرماتے ہوں گے۔ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آواز آئی اور وہ آواز حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ بنت خویلد کی آواز تھی جو حضرت خدیجہ سے بہت ملتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے قرار ہو گئے اور گھبرا کر فرمایا کہ خدایا یہ ہالہ ہیں۔عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے رشک آیا۔میں نے کہا کہ آپ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی کو یاد کرتے رہتے ہیں جو کبھی کی اس دنیا سے گزر چکی ہے اور خاک ہو چکی ہے۔اللہ نے آپ کو اس کے بدلے میں اس سے بہتر بیویاں دے دی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں ایسا نہیں۔اس سے بہتر مجھے کوئی بیوی عطا نہیں کی گئی۔(مسلم کتاب الفضائل ) یہ جو پہلو ہے اس میں وفا کا پہلو بڑا نمایاں ہے۔بعض مرد شادیاں کرتے ہیں۔بیوی فوت ہو جائے یا بعض دفعہ زندگی میں بھی اس سے بے وفائی کر جاتے ہیں اور ان کی وفا کا تعلق عورت کے ظاہری حسن سے ہوتا ہے اگر ہو بھی تو۔جب تک ایک عورت میں جذب ہے کشش ہے وفا کے نام پر مرد ان کا خیال رکھتے ہیں۔جب وہ کشش وہ جذب دور ہو جائے تو سمجھتے ہیں کہ اب وفا بھی ساتھ ہی ختم ہوگئی حالانکہ وفا کا ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔وفا کسی نے سیکھنی ہو تو ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے۔تو حضرت خدیجہ کے ذکر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق وفا بڑا نمایاں نظر آتا ہے۔