اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 260
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۰ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء قرآن کریم با ترجمہ جاننے کے سلسلہ میں بھی لجنہ اماءاللہ نے بہت بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔۱۲۵۷ کی تعداد میں ( ان کی رپورٹ کے مطابق ) ایسی خواتین کو تر جمہ سکھایا گیا جن کو اس سے پہلے ترجمہ نہیں آتا تھا۔( حضور انور کا خطاب ابھی جاری تھا کہ نماز مغرب کی اذان کی آواز سنائی دی۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ منتظمین کو چاہئے تھا کہ جب تک تقریر جاری ہے اذان نہ شروع کرواتے۔عجیب بات ہے کہ اتنی چھوٹی سی بات بھی ان کو سمجھ نہیں آئی )۔اب میں اس کے باقی تفصیلی ذکر چھوڑتا ہوں اور مالی قربانی کے متعلق نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہندوستان کی لجنات میں سے سب کے متعلق تو میں نہیں کہہ سکتا لیکن قادیان کی لجنہ کے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ مالی قربانی میں یہ بے مثل نمونے دکھانے والی ہے۔قادیان کی جماعت ایک بہت غریب جماعت ہے لیکن میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی تحریک کی جائے یہاں کی خواتین اور بچیاں ایسے ولولے اور جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیتی ہیں کہ بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ ان کو روک دوں کہ بس کرو تم میں اتنی استطاعت نہیں ہے اور واقعہ مجھے خوشی کے ساتھ انکا فکر بھی لاحق ہو جاتا ہے لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ جس کی خاطر انہوں نے قربانیاں کی ہیں وہ جانے۔وہ جانتا ہے بلکہ۔کہ کس طرح ان کو بڑھ چڑھ کر عطا کرنا ہے۔وہی اللہ اپنے فضل کے ساتھ ان کے مستقبل کو دین اور دنیا کی دولتوں سے بھر دے گا۔ایک موقع پر جب میں نے مراکز کیلئے تحریک کی تو احمدی بچیوں نے جو چھوٹی چھوٹی بجیاں بنا رکھی تھیں، عجیب نظارہ تھا کہ گھر گھر میں وہ نجیاں ٹوٹنے لگیں اور دیواروں سے مار مار کر گجیاں تو ڑ دیں۔چند پیسے، چند ٹکے جو انہوں نے اپنے لئے بچائے تھے وہ دین کی خاطر پیش کر دیئے۔ہمارا رب بھی کتنا محسن ہے ، کتنا عظیم الشان ہے۔بعض دفعہ بغیر محبت اور ولولے کے کروڑوں بھی اُس کے قدموں میں ڈالے جائیں تو وہ رد کر دیتا ہے، ٹھو کر بھی نہیں مارتا ، ان کی کوئی حیثیت نہیں اور ایک مخلص ایک غریب پیار اور محبت کے ساتھ اپنی جمع شدہ پونچی چند کوڑیاں بھی پیش کرے تو اسے بڑھ کر پیار اور محبت سے قبول کرتا ہے جیسے آپ اپنے محبت کرنے والے اور محبوبوں کے تحفوں کو لیتے اور چومتی ہیں۔خدا کے بھی چومنے کے کچھ رنگ ہوا کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان معنوں میں خدا نے ان چند کوڑیوں کو ضرور چھ ما ہوگا۔بظاہر یہ اصطلاح خدا پر صادق نہیں آتی مگر حضرت محمد مصطفی علیہ نے اسی رنگ میں کئی مرتبہ خدا کا ذکر فرمایا ہے کہ فلاں نظارہ دیکھ کر خدا بھی عرش پر ہنس پڑا اور ایک موقعہ پر