اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 251
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۲۵۱ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء دل کو خون پہنچتا ہے۔وہ دل بن جائیں اور ہر طرف سے محبت کا خون ان تک پہنچے اور وہ دل بن جائیں اور ہر جسم کے عضو کو ان کی طرف سے سکینت کا خون پہنچے یہ وہ اسلامی معاشرہ ہے جس کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفی نے ایک ہی چھوٹے سے جملے میں فرمایا کہ تمہاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں تلے ہے۔پس جہاں حجت ہو اسی طرف تو انسان بھا گتا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جنت کہیں اور ہو اور دوڑ کے رخ کسی اور سمت میں ہوں۔اس کی مزید عملی تصویر اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ جن معاشروں میں اسلام کے خلاف قدریں قائم ہو رہی ہیں ان میں کسی نہ کسی تھوڑے فرق کے ساتھ بالعموم یہ رجحان ہے کہ ماؤں کے ساتھ اولاد کا تعلق اور اسی تعلق سے باپوں کے ساتھ اولاد کا تعلق دن بدن کٹتا چلا جارہا ہے یا دھیما پڑتا چلا جارہا ہے اورنئی نسل یوں سمجھتی ہے کہ جیسے یہ پرانی نسل ہم پر بوجھ ہے ایک مصیبت ہے ، ایک عذاب سر پر پڑا ہے کوئی ایسا فرض وہ ان کے حقوق کے سلسلہ میں ادا نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں انہیں تکلیف اٹھانی پڑے۔بہت معمولی تکلیف اٹھا کر کبھی کبھی عید بکر عید جیسے ہم کہتے ہیں وہاں کرسمس کہا جاتا ہے، ایسے مواقع پر وہ کبھی ماں باپ کو اپنے ہاں دعوت دے دیتے ہیں یا کبھی ماں باپ کے ہاں چلے جاتے ہیں ورنہ بالعموم بوڑھوں کیلئے اُس سوسائٹی میں کوئی جگہ نہیں رہی۔جو تھوڑی سی جگہ ہے وہ بھی تنگ ہوتی چلی جارہی ہے۔ایسے شریف گھرانے ضرور موجود ہیں جنھیں ما حول قدامت پسند سمجھتا ہے اور وہ اپنے ماضی کے گہرے تعلق کی بناء پر ابھی تک مجبور ہیں کہ اپنے ماں باپ کے کچھ حقوق ادا کریں لیکن اس حد تک نہیں کہ مستقلاً وہ ان کی رضا جوئی کی کوشش کرتے رہیں۔اگر پاؤں تلے جنت ہو تو انسان آخر وقت تک اس جنت کے حصول کے لئے جدو جہد اور کوشش کرتا رہتا ہے اور آخری وقت کی اپنی ماں کی دعائیں اور اپنے باپ کی رضا کی آواز سننا چاہتا ہے اسی سے اس کو تسکین ملتی ہے مگر ایسی کسی صورت کا مغرب میں تو تصورہی نہیں رہا۔مشرق میں بھی دن بدن یہ رشتے ٹوٹ رہے ہیں اور مجھے بسا اوقات بعض احمدی مائیں بھی یہ ھتی ہیں کہ ہماری اولاد کی نظریں بدل رہی ہیں ،ان میں وہ احترام وہ تعلق نہیں رہا جیسے غیر غیر ہو رہے ہوں۔ہم اس کا کیا علاج کریں؟ کیا علاج کے مضمون سے متعلق میں آپ کو یہ بات سمجھانی چاہتا ہوں کہ بچپن ہی میں آپ کے پاس علاج ہوتا ہے خدا نے یہ علاج آپکو عطا فر مارکھا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر گز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے متعلق یہ بلند توقع نہ رکھتے کہ جت آپکے قدموں تلے ہے۔ضرور چاہے آپ اسے استعمال کریں یا نہ کریں بات یہ ہے کہ ہر وہ ماں جو بچے کو صرف پیار ہی نہیں دیتی بلکہ شروع ہی سے اس کے اندر