اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 242

حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۴۲ خطاب ۳۱ راگست ۱۹۹۱ء میں زیادہ دیر بیٹھ کر انسان گھبرا جاتا ہے کیا فضول باتیں کرنے والا ہے۔اپنے دکھاوے کی باتیں، دنیا داری کی باتیں، اپنے تعلقات کی باتیں بنی نوع انسان کی ہمدردی کی کوئی چیز نہیں ہے کوئی عصر اُن میں نہیں ہے کوئی گہری سچائی نہیں ہے اور اس کے مقابل پر بعض لوگ سادہ سی بات کرتے ہیں بڑاوزن رکھتی ہے دل پر بہت گہرا اثر کرتی ہے اُن کے دل میں پیار پیدا ہو جاتا ہے اُن کی ایک بات کو سننے کے لئے آدمی گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے۔تو بات میں بہت کچھ ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ منہ کی بات کی کیا بات ہے منہ کی بات ہی کی تو ہر بات ہے اس لئے آپ جب منہ سے بات نکالا کریں تو احتیاط کیا کریں، غور کر لیا کریں بعد میں نہ سوچا ریں پہلے سوچا کریں اور جو بات نکل جائے وہ پرائی ہو جاتی ہے اس پر بھر بعض دفعہ اقدام کرنے پڑتے ہیں۔نئی صدر عہد یداران اور لجنات کو اہم نصائح تو میں آئندہ آنے والی صدر لجنہ کو بھی متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ان معاملات میں پوری احتیاط سے کام لیں اور اگر وہ نصیحت کرنے کے ساتھ دل کا دکھ محسوس نہیں کرتیں تو اپنی فکر کریں اور دعا کے ذریعہ اپنا علاج کرنے کی کوشش کریں اور اگر وہ غصہ سے بے قابو ہو جاتی ہیں یادوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں یہ کہ نیکی میں ہم سے پیچھے ہے اس کا پردہ خراب ،اس کی فلاں بات خراب پھر وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ بھی صدر بن سکے۔ان کو پھر استغفار سے کام لینا چاہئے اور مجھے مخفی طور پر اطلاع کر دیں کہ ان باتوں میں مجبور ہوں۔اگر چہ استعفیٰ دینا جائز نہیں مگر اس قسم کی بات میں اگر واقعات لکھ دئے جائیں تو میں ان کو ضرور زیر نظر لاتا ہوں مگر میں اُمید رکھتا ہوں کہ خدا کے فضل سے وہ ایسا نہیں کریں گے یا ان میں یہ حوصلہ ہوگا۔خدا حوصلہ عطا فرمائے گا کہ وہ ان نصیحتوں کو پلے باندھ لیں اور مضبوطی کے ساتھ ان کو پکڑ لیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔لیکن اس خطاب میں صرف صدر لجنہ مخاطب نہیں آپ میں سے ہر ایک جو عہد یدار ہے وہ بھی مخاطب ہے، آپ میں سے ہر ایک جو گھر کی مالکہ بنائی گئی ہے وہ بھی مخاطب ہے، آپ میں سے ہر ایک جو بچی اپنے گھروں میں رہتی ہے ابھی صاحب اختیار نہیں ہوئی وہ بھی مخاطب ہے۔یہ وہ ایسی نصیحت ہے جس کا تعلق آپ کی اپنی زندگی ہی سے نہیں ، آپ کے ماحول سے ہی نہیں بلکہ آئندہ آنے