اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 230
حضرت خلیفہ المسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۲۳۰ خطاب ۳۱ را گست ۱۹۹۱ء آئندہ عہد یدارات ان باتوں سے پر ہیز کریں۔تربیت کے لئے نرمی ضروری ہے ایک وجہ تو مختصر میں نے بیان کی ہے کہ طبیعت میں خشکی کا مادہ اس حد تک تھا جو تر بیت کی راہ میں مخل ہو جاتا ہے۔تربیت کے لئے دل کی نرمی بھی اس طرح کی ہونی چاہئے کہ نظم وضبط کے ساتھ مل جُل کر اس میں رس پیدا کر دے اور جب انسان نظام جماعت کو نافذ کرے تو جن لوگوں پر وہ نظام نافذ ہوتا ہے ان کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک خشک قسم کا نظام ہے جو ٹھونسا جار ہا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تلخی سے تنقید کی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا جو کمزور ہے وہ گھٹیا ہے، بے حقیقت ہے، تھوڑی سی غلطی بھی سرزد ہوگئی ہو، بے احتیاطی ہوگئی ہو تو اس کو نظر سے گرا دیا جائے ، یہ طریق تربیت کا طریق نہیں ہے، تربیت کے لئے اپنے دل کو زخمی کرنا پڑتا ہے بجائے اس کے کہ دوسروں کے دلوں کو زخمی کیا جائے۔اور جہاں تک ممکن ہو اس پہلو سے تربیت کرنی چاہئے اور اس کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے انداز سیکھنے چاہئیں۔چنانچہ مختلف وقتوں میں مختلف شکلوں میں یہاں بھی اور اس کے علاوہ بھی میں نے اس پہلو پر روشنی ڈالی۔میں نے بار ہا عہد یداران کو اور جماعت کو بالعموم یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ ان لوگوں کو جو ہدایت نہیں پاتے تھے جن کی تربیت میں نقص تھے نفرت اور حقارت اور خشک تنقید کی نظر سے نہیں دیکھا کرتے تھے بلکہ آپ کا دل اُن کے لئے زخمی ہو جایا کرتا تھا اور آپ اُن کا دکھ محسوس فرمایا کرتے تھے۔جوشخص کسی کمزور کے لئے دکھ محسوس کرتا ہے اس کے نتیجہ میں اس کی تنقید میں بھی ایک رس پیدا ہو جاتا ہے۔وہ تنقید جو دل کے گداز سے کی جائے اس کا اور رنگ ہوتا ہے اس کی اور تاثیر ہوا کرتی ہے اور وہ تنقید جو خشک ملا کی طرح کی جائے اثر صلى الله سے خالی ہوتی ہے جیسے کوئی درخت ایسا ہو جو پھل دار نہ رہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اندر وہ زندگی کا رس تھا جو آنحضرت ﷺ کو آسمان سے بھی ودیعت کیا گیا اور آپ کے دل میں بھی وہ اس پھوٹا الله کرتا تھا۔چنانچہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو آپ کو اس بات سے پیار کے رنگ میں روکنا پڑا کہ اتنا تو غم نہ کیا کرو لوگوں کا کہ خود ہی ہلاک ہو جاؤ۔کتنا عظیم الشان آنحضور ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔کہ اے میرے بندے کیا تو اس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا یہ لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور تیری بات سن کر زندگی کا پانی نہیں پیتے اور آب حیات کے