اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 225

۲۲۵ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات جائے گا۔بسا اوقات آپ ایک کام کریں گی اور دل سے آواز اُٹھے گی کہ مجھے تو خدا سے محبت ہے اور خدا کو تو یہ بات پسند نہیں۔یہ سلسلہ شروع میں اس طرح تھوڑے تھوڑے تجربوں سے شروع ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی انتہا ایک خودرو پانی کی طرح بہتی ہے، اس وقت انسان اپنے آپ کو متوجہ نہیں کیا کرتا بلکہ محبت میں رواں دواں ہو جاتا ہے ، وہ اس کو اٹھائے پھرتی ہے ،اس کی زندگیوں کے رخ موڑ دیتی ہے۔محبت فیصلہ کرتی ہے کہ کس طرف اس نے جانا ہے اس وقت وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ ہمیں تو راہ رووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا۔ہمیں تو جانا ہی جانا ہے کیونکہ وہ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔پس آج دنیا کے سارے مسائل کا حل خدا کی محبت ہے اور یہی وہ محبت ہے جو دلوں کو اکٹھا کر سکتی ہے اس کے علاوہ باقی سارے نسخے بے معنی اور جھوٹے اور لغو نسخے ہیں ،منہ کی باتیں ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔پس یہ سفر شروع کریں اور اگر اس سفر میں آپ بہت سا وقت ضائع کر چکی ہیں اور بہت پیچھے رہ گئی ہیں تو خدا سے مدد مانگیں کیونکہ خدا کی مدد کے بغیر یہ سفرمکمل نہیں ہوا کرتے نہ ہو سکتے ہیں۔کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے کہ وہ خود خدا تک پہنچ جائے یا خدا کا پیار حاصل کر سکے۔اس کے لئے بھی خدا سے مدد مانگنی پڑتی ہے لیکن نیست فرض ہے اور نیت کی سچائی فرض ہے۔وہ کام آپ کے سپرد ہے۔آپ ایک دن یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے خدا کی محبت میں مبتلا ہونا ہے۔جیسے تیسے بھی ہو سکے آپ اپنے رب سے محبت کریں گی اور اس کے حسن کی تلاش کریں گی۔جب آپ محبت کی بات کریں گی تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا یہ شعر آپ کے لئے ایک تنبیہہ بن جائے گا۔بن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پہ آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل آپ سوچیں گی کہ میں تو واقعی نظریاتی طور پر ایک خدا کی قائل تھی مجھے تو اس کا حسن دکھائی نہیں دیتا۔میں کیسے محبت کروں؟ چنانچہ بہت سے احمدی مرد اور بہت سی احمدی عورتیں مجھے گھبرا گھبرا کر لکھتے ہیں کہ آپ تو کہتے ہیں نماز میں لذتیں پیدا ہو سکتی ہیں ہم نے تو اتنی ٹکریں ماری ہیں ہمیں تو لذت پیدا نہیں ہوئی۔اس لئے کہ ان کا صنم خیالی رہا ہے، اس لئے کہ انہوں نے نماز کے کلمات پر غور نہیں کیا۔ان میں ڈوب کر نماز نہیں پڑھی۔یہی وجہ تھی کہ مجھے ایک خطبات کا سلسلہ دینا پڑا جو کئی مہینوں پر پھیلا ہوا ہے۔یہ سمجھانے کے لئے کہ نماز میں کیسے ڈوبا جاتا ہے اور اس نماز میں ڈوبنے کے نتیجے میں خدا کا چہرہ دکھائی دینے لگتا ہے اور وہ اتنا حسین چہرہ ہے کہ آپ چاہیں نہ چاہیں آپ اس کی محبت میں مبتلا ہو جائیں گی۔