اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 219
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات کرنا پڑے گا ورنہ مستقبل لازماً تاریک رہے گا۔۲۱۹ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء آج احمدی خواتین کو اپنے سینوں کو خدا کی محبت سے روشن کرنا ہوگا ورنہ ان کے دودھ وہ نور ان کے بچوں کو نہیں پلائیں گے جو ماؤں کے دودھ کے ساتھ پلایا جاتا ہے اور ہمیشہ بجز و بدن اور حجز وروح بن جایا کرتا ہے اور خدا کی محبت ایک فرضی چیز نہیں ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اس کے آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں۔پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں تو آثار ظاہر ہوتے ہیں۔جب بارش آنے لگے اس وقت بھی آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں۔اچانک نہیں آجایا کرتی۔جب موسم تبدیل ہوتے ہیں تو اس وقت بھی آثار ظاہر ہوا کرتے ہیں۔وقت سے پہلے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔پس وہ مائیں جو خدا کی سمت حرکت کر رہی ہوں ان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔جب میں نے اس مضمون پر غور کیا تو میرے بہت سے مسائل حل ہو گئے۔میں آپ کو یہ تاکید کیا کرتا ہوں کہ آپ اپنا ایسا خیال رکھیں کہ مغربی تہذیب میں یا دوسری بدتہذیبوں میں بہہ نہ جائیں۔یہ کریں اور وہ کریں اور ایسی پابندیاں اختیار کریں یہ ساری نصیحتیں ہیں کبھی اثر کر جاتی ہیں کبھی لوگ ان سے اور زیادہ بدک جاتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن ایک نصیحت ایسی ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نظم میں بیان فرمائی اور حقیقت میں اسی پر بار بار مختلف رنگ میں زور دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی محبت میں مبتلا ہو جائیں تو سارے معاملے حل ہو جاتے ہیں پھر کسی اور نصیحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پھر خدا خود آپ کو سنبھال لے گا وہ خود آپ کے کام بنائے گا آپ کو بتائے گا کہ کیا راہ اور کون سی راہ اس کی طرف جاتی ہے اور کون سی راہ اس سے مخالف چلتی ہے۔پھر کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے محبوب کی راہ چھوڑ کر اس کے مخالف سمت چلنے والی راہوں پر قدم مارے۔پھر تو قربانیوں کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔پاکیزہ زندگی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔معاشرہ کے اختلافات کے مسائل بھی سب حل ہو جاتے ہیں۔سارے مسائل کا ایک حل ہے اور وہ حل یہی ہے کہ خدا کی محبت میں مبتلا ہو جائیں اور اس کے نتیجہ میں جو نسلیں پیدا ہوں گی وہ یقیناً خدا والی نسلیں بنیں گی۔لیکن اس کے آثار ظا ہر ہونے چاہئیں اور وہ آثار دو طرح سے ظاہر ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ جو انسان خدا کی سمت میں حرکت کرتا ہے اس کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں وہ غیر کی بجائے اپنی ذات کا شعور حاصل کرنا شروع