اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 213
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۱۳ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء Justice صرف اور صرف خدا کی ذات کے تعلق میں قائم ہوسکتی ہے۔اس کے بغیر اس کا کوئی وجود نہیں اور انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا بھی خدائے واحد و یگانہ کی ذات میں ان کو اکٹھا کرتا ہے۔اس کے سوا جب خیالی اور فرضی باتیں ہیں، ڈھکو سلے ہیں ، دھوکا بازیاں ہیں،محض لفاظیاں ہیں۔ان میں کوئی حقیقت نہیں لیکن خدائے واحد و یگانہ کے نام پر کیسے اکٹھا کیا جائے۔یہ وہ بڑا مسئلہ ہے جو ہمیں در پیش ہے اور جماعت احمد یہ جو اس مقصد کی خاطر قائم کی گئی ہے جماعت احمدیہ کے لئے سب سے اہم اور سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ تم کیسے بنی نوع انسان کو ان کے بکھرے ہوئے گروہوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرو گے اور کیسے ان کے دل ملانے کی کوشش کرو گے۔جہاں تک دل ملانے کا تعلق ہے اسلام کی آغاز کی تاریخ میں ہم نے بہت شدت کے ساتھ پھٹے ہوئے دلوں کو ملتے دیکھا ہے۔ایسے قبائل کو اکٹھے ہوتے دیکھا جو ایک دوسرے کی جان کے دشمن تھے۔جہاں بے سبب ایک دوسرے کا خون کیا جاتا تھا۔جہاں سوسالہ پرانی بے عزتیوں کے بدلے بعد میں آنے والی نسلوں سے لئے جاتے تھے اور اس انتقام کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں پڑا کرتی تھی۔وہ نظارہ ہم نے آج سے چودہ سو سال پہلے دیکھا کہ اچانک یہ بکھری ہوئی منتشر قوم جن کے دل صرف جداجدا ہی نہیں تھے اور نفرتوں سے بھرے پڑے تھے ، اٹے پڑے تھے وہ اچانک ایک ہاتھ پر اکٹھی ہوگئی اور اس طرح اکٹھی ہوئی کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق وہ محبت کے رشتوں میں باندھے گئے اور ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے اور بھائی بھی وہ جو ایک دوسرے پر جان نثار کرنے والے ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف سورتوں میں مختلف جگہ بیان فرمایا۔ایک جگہ اس نصیحت کے طور پر فرماتا ہے کہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَليُّ حَمِيمٌ (حم السجدة : ۳۵) کہ ایک پروگرام ہم تمہارے سامنے رکھتے ہیں اگر تم وہ پروگرام اختیار کرو گے اور وہ پروگرام یہ ہے کہ بدی دیکھو تو حسن سے اس بدی کو دور کر ونفرت سے اس بدی کو دور کرنے کی کوشش نہ کرو۔انتقامی جذبہ سے برائی کو دور کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ بدی تو ایک بدصورت بد زیب چیز ہے اس کا علاج حسن ہے۔کبھی آپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کسی کے ناک پر پھوڑا ہو تو انسان ناک کاٹ دے، انتقامی جذبے کی یہ تصویر ابھرتی ہے۔اس زخم کو بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے نقص کو حسن میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔