اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 212
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۱۲ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء نے پوچھا کہ میں مستورات سے کس موضوع پر خطاب کروں گا تا کہ اس کے مطابق وہ آیات اور نظم کا انتخاب کر سکیں۔میں نے ان سے کہا کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی قسم کی تیاری کے بغیر اور فیصلے کے بغیر تقریر کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود ہی موقع پر مجھے مضمون سمجھا دیتا ہے تو کیسے میں آپ کو آج وہ بات بتا سکوں جو خود مجھے بھی علم نہیں ہے۔میں نہیں جانتا کہ میں کس موضوع پر خطاب کروں گا۔لیکن قرآن کریم کی آیات اور نظموں کے انتخاب کے متعلق میں نے کہا کہ وہ میں خود کروں گا اس لئے آپ کو اس کے لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جب میں نے حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی نظم کا انتخاب کیا تو مضمون از خود ہی مجھ پر روشن ہو گیا۔اور میں نے سمجھا کہ آج کے وقت کی سب سے اہم آواز وہ ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود کے منظوم کلام کی صورت میں آپ نے سنی ہے۔آج کی دنیا انتشار کی دنیا ہے۔اتفاق کی باتیں بھی کی جاتی ہیں تو انتشار کی نیتوں کے ساتھ۔بڑے بڑے دعاوی بلند کئے جارہے ہیں مذہبی پلیٹ فارم سے بھی اور سیاسی پلیٹ فارم سے بھی کہ ضرورت ہے کہ دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا جائے اور دنیا کو امن سے بھر دیا جائے مگر وہ بلند بانگ دعاوی کرنے والے خود امن سے عاری ہیں، خود منتشر ہیں ان کے ذہن بھی منتشر ہیں ان کی نیتیں بھی منتشر ہیں کیسے ممکن ہے کہ وہ دنیا کو امن دے سکیں۔تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ تمام عالم کو خدائے واحد و یگانہ کی ذات پر اکٹھا کر دیا جائے اور اشتراک کی کوئی صورت نہیں ہے۔انسانیت کے نام کی باتیں محض فرضی اور خیالی باتیں ہیں ورنہ حقیقت میں آج بھی Racialism ( نسل پرستی ) اسی طرح زندہ ہے جس طرح آج سے سو سال پہلے زندہ تھا۔اس نے مختلف روپ دھار لئے ہیں۔مختلف شکلوں میں ڈھل چکا ہے۔مگر جغرافیائی تقسیمیں قومی تقسیمیں اور اسی طرح لسانی تقسیمیں انسان کو بانٹے ہوئے ہیں۔جس طرح آج سے پہلے انسان کو بانٹے ہوئے تھیں اور جب بھی دنیا کے راہنما کوئی فیصلہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں تو ہر ایک ان میں سے اس نیت کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے کہ اپنی قوم کے لئے یا اپنے لسانی گروہ کے لئے یا اپنے جغرافیائی علاقے کے لئے زیادہ سے زیادہ حاصل کر کے آئے۔انصاف کا کوئی تصور وہاں کارفرما نہیں ہوتا۔پس انصاف کے بغیر دنیا کو کیسے امن سے بھرا جا سکتا ہے اور انصاف کا تصور خدائے واحد دیگانہ کے تصور کے بغیر عالمی تصور نہیں بنتا بلکہ علاقائی تصور بن جاتا ہے۔Absolute