اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 203
خطاب ۲۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خیال رکھنا ان دونوں باتوں کو اس طرح باندھ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی عورت یا مرد دونوں میں سے جو بھی ہورحمی رشتوں کا لحاظ نہیں کرتا اور صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی اختیار کرتا ہے تو اس کے لئے پیغام ہے کہ تمھاری دعائیں قبول نہیں ہونگی اس نکتہ کو سمجھنا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ بے شمار خطوط مجھے ملتے ہیں دعا کے لئے اس میں ایسے بھی بہت سے خطوط ہوتے ہیں کہ ہماری دعائیں پتا نہیں کیوں قبول نہیں ہوتیں۔کئی وجوہات ہو سکتی ہیں دعائیں قبول نہ ہونے کی مگر ایک وجہ جو یہاں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم نے اپنے خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے کی بجائے ایسی حرکتیں کیں کہ یہ تعلقات قطع ہو جائیں تو یاد رکھنا تم خدا سے اپنا تعلق منقطع کر لو گی اور جس سے منتیں کر کر کے اپنی مرادیں مانگتی ہو وہ تمھاری مراد یں پوری نہیں کرے گا۔ی تفسیر میری نہیں حضرت اقدس محمد مصطفی ملالہ کی تفسیر ہے۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ خدا کا نام رحمن اسی مادے سے ہے جس مادے سے ماں کا رحم بنا۔ماں کا وہ عضور تم کہلاتا ہے جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔فرمایا رحم ماں کے یوٹرس کے لئے بھی نام رکھا گیا اور رحم ہی خدا کے رحمن نام کی بنیاد ہے۔فرمایا اگر تم رحمی رشتوں کو کاٹو گے تو خدا کے رحم سے بھی کاٹے جاؤ گے اور ایک کا دوسرے سے بڑا گہرا تعلق ہے۔پس جو رحمانیت سے کاٹا گیا وہ تو کہیں کا بھی نہیں رہا اور ایسے معاشرے کا رحمانیت سے کاٹے جانے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ اس معاشرے میں محبت نہیں پل سکتی اور نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔جو رحم سے کاٹا گیا وہ رحمانیت سے کاٹا گیا۔جس کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو میں نے بیان کیا کہ خدا کی طرف سے پھر تمھاری دعاؤں کے باوجو درحم کا سلوک نہیں کیا جائے گا۔دوسرا یہ کہ ایسا معاشرہ رحمت سے عاری ہو جاتا ہے اور اس میں نفرتیں پلنے لگتی ہیں دیکھنے میں بہت بڑی بڑی خرابیاں ہمیں مغربی معاشرے میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور ان کا ازالہ بھی ضروری ہے ان کا تدارک بھی ضروری ہے، لیکن چونکہ اکثر احمدی خواتین سر دست مشرقی معاشرے سے تعلق رکھنے والی ہیں اس لئے میں ان کو متوجہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے محض تنقید کی نظر سے مغربی معاشرے کو دیکھا اور ان کو اپنے معاشرے کی طرف بلایا تو وہ بھی جوابا تنقید کی نظر سے آپ کے معاشرے کو دیکھیں گی اور یہ حق رکھیں گی کہ کہیں کہ یہ معاشرہ ہمیں قبول نہیں ہے کیونکہ یہ معاشرہ تقویٰ پر مبنی نہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر Racialism پیدا ہوگا۔اس کے نتیجے میں جغرافیائی اور قومی تفریقات پیدا ہونگی اور نفرتیں پیدا ہونگی جو قوموں کو قوموں سے الگ کریں گی اس کا صرف مغرب سے تعلق نہیں مشرق سے بھی تعلق ہے۔