اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 202
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۰۲ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء میں سے کوئی ایسی ساس نہ ہو۔یہ بھی برداشت نہیں کرتیں کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی آکر اپنے خاوند پر تمام بوجھ نہیں ڈالتی بلکہ خود کماتی ہے کچھ اپنے گھر پر خرچ کرتی ہے کچھ اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کو دیتی ہے تو یہ چیز ان کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے اور وہ خاوند کے کان بھرنے شروع کر دیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ اس طرح ہم نے اپنے بیٹے کو جیت لیا ہے اور وہ ہمارا بن کے رہ رہا ہے۔وہ ہمارا تو بنایا نہیں بنا اپنا نہ بن سکے گا کیونکہ اس بیٹے کی تو زندگی اجیرن ہو جائے گی جس کا گھر ہی نہیں بس سکا تو اس مشرقی معاشرے میں جہاں بظاہر خاندان بڑے ہیں اور ظاہری روابط زیادہ مضبوط ہیں وہاں اندرونی طور پر ایک ایسا نظام چل رہا ہے جو ان روابط کو کاتا ہے اور نفرتوں کی تعلیم دیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں بارہا ہمیں رحمی رشتوں کی طرف متوجہ فرمایا اور وہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے وہ آنحضرت یہ نکاح کے موقع پر پڑھا کرتے تھے اور آنحضرت عیﷺ ہی کی سنت میں اب ہمیشہ ہر مسلمان کے نکاح میں تین آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں سے پہلی وہی ہے جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔اللہ تعالی فرماتا ہے: يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ اے بنی نوح انسان اپنے رب کا تقوی اختیار کرو الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ اس نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ایک ہی جان سے پیدا کرنے کے بہت سے مفاہیم ہیں ایک مفہوم یہ ہے کہ اس موقع سے تعلق رکھنے والا کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے پر برتری نہیں رکھتا اور ایک جان میں اکٹھے ہونے کا مضمون پایا جاتا ہے۔اس لئے معاشرہ جو ایک جان سے پیدا کیا گیا ہے اس کو ایک جان والا معاشرہ بنا رہنا چاہئے۔وہ معاشرہ جو بٹ کر کئی جانوں میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے وہ اپنی اصل کو بھول جاتا ہے اور اس میں افتراق پیدا ہو جاتا ہے۔فرمایا ہم نے تمھیں کثرت بھی عطا کی کثرت سے مرد بھی پیدا کئے اور عورتیں بھی پیدا کیں لیکن اس لئے نہیں کہ تم باہم اختراق اختیار کرو ایک دوسرے سے دلوں کے لحاظ سے پھٹ جاؤ بلکہ اس لئے کہ تم ان تعلقات کو دوبارہ باندھو اور پھر ایک ہونے کی کوشش کریں یہ پیغام اس آیت کا آخر میں یوں دیا گیا۔وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ “ ہم نے تمہیں تمام دنیا میں پھیلا دیا اور ایک جان سے بے شمار جانیں پیدا کیں مگر اس لئے نہیں کہ رشتے ٹوٹ جائیں اس لئے کہ رشتے قائم ہوں اور بڑے احترام کے ساتھ قائم ہوں فرمایا جس خدا سے تم منتیں کر کے اپنی مرادیں مانگتے ہو یاد رکھنا۔کہ وہ خدا تمھیں تعلیم دے رہا ہے کہ اپنے رحمی رشتوں کی حفاظت کرنا اور ان کا