اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 157

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۵۷ بعد از نظم حضور نے فرمایا: خطاب ۱۲ راگست ۱۹۸۹ء یہ جونظم آپ نے سنی ہے حضرت مسیح موعود کی اس کی یہ خصوصی طر ز سب سے پہلے مسز نیم شیخ نے نکالی تھی اور گزشتہ سال انہوں نے ہی اپنی آواز میں پڑھ کر سنائی تھی۔انہوں نے بھی اچھی نقل کی ہے ماشاء اللہ لیکن قوام کا فرق ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا آپ تو کھانا پکاتی ہیں، میٹھے کا قوام بنایا جائے تو بعض دفعہ تار لمبی کھچ جاتی ہے۔بعض دفعہ جلدی ٹوٹتی ہے۔تو مسز نسیم کی آواز کا قوام اچھا ہے۔ماشاء اللہ مگر کو کونے بھی اچھا حق ادا کیا ہے۔جزاا اللہ احسن الجزاء۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج کے خطاب سے پہلے ایک دو باتیں میں آپ کی خدمت میں متفرق رکھنی چاہتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آج سٹیج پر میرے ساتھ میری اہلیہ کے علاوہ بھی دوصدرات لجنہ موجود ہیں ایک تو کینیڈا کی صدر لجنہ ہیں اور ایک امریکہ کی صدر لجنہ ہیں لیکن صدر لجنہ جو تمام دنیا کی ہیں وہ بھی یہاں موجود ہیں۔مجھے علم نہیں کہ آیا انہوں نے خود معذرت کی یا ان سے درخواست ہی نہیں کی گئی کہ وہ بھی سٹیج پر تشریف لائیں۔اسی طرح اگر چہ اور بہت سے ممالک ہیں جن کی صدرات لجنہ ہیں بہت سے شہر ہیں جن کی صدرات لجنہ ہیں۔اس چھوٹے سے سٹیج پر سب کو اکٹھا تو نہیں کیا جاسکتا لیکن صدر لجنہ ربوہ کو بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس لئے آئندہ سے یا تو جس طرح دستور پہلے چلا ہوا تھا۔صرف خلیفہ وقت کے ساتھ اس کی بیوی بیٹھی ہو اور کوئی بھی نمائندہ نہ ہو اور یا پھر جو مرکزی نمائندگان موجود ہوں ان کو اولیت دینی چاہئے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں لجنہ اماءاللہ امریکہ کی نمائندگی اور لجنہ اماءاللہ کینیڈا کی نمائندگی سے خوش نہیں ہوں۔میں اس سے خوش ہوں مگر میں زیادہ خوش ہوتا اگر صدر لجنہ مرکز یہ بھی یہاں تشریف رکھتیں اور صدر لجنہ ربوہ بھی یہاں ساتھ ہوتیں اس سٹیج پر یقینا اتنی جگہ موجود ہے۔بہر حال یہ مختصر سی بات تھی۔امید ہے آئندہ ایسے جو مراتب ہیں ان کا خیال رکھا جائے گا۔جو نے آپ نے سنے ہیں افریقہ کے ، یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جو جب میں افریقہ گیا تھا تو اُس وقت جس قسم کے نغمے گائے گئے تھے اُن میں سے یہ نمونہ تھوڑا سا آپ کے سامنے پیش ہوا ہے۔اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ جب افریقہ کے دورے میں، ملکوں ملکوں میں ، مقامی زبانوں میں بے اختیار، مردوں ، عورتوں اور بچوں نے نغموں کی صورت میں حضرت مسیح موعود کی صداقت کا اعلان کیا تو