اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 156
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۱۵۶ خطاب ۱۲ مرا گست ۱۹۸۹ء تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اب میں آپ کو اردو میں ایک دلچسب بات بتا تا ہوں ، ترجمہ سے پہلے۔یہ جو خاتون یہاں تلاوت کے لئے تشریف لائی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی دُعاؤں کا ایک زندہ معجزہ ہیں۔ایک سال قبل انہوں نے میری تحریک میں حصہ لیا اور وقف نو کے لئے خواہش ظاہر کی۔ڈاکٹر ز کا ان کو مشورہ یہ تھا کہ یہ بہت کمزور ہیں اور ایک اور بچے کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔انہوں نے اس کے باوجود کہا کہ مجھے اس سے غرض کو ئی نہیں۔میں نے تو عہد کیا ہے کہ اس نئی تحریک میں ضرور حصہ لینا ہے۔چنانچہ جب خدا تعالیٰ کے فضل سے وضع حمل ہوا تو کچھ عرصہ کے بعد ڈاکٹروں نے ان کو وارننگ دینی شروع کی لیکن یہ اپنی ضد پر قائم رہیں اور جب بچے کی پیدائش ہوئی تو کس طرح کلیہ یہ Collapse کر گئیں اور ہاتھوں سے نکل گئیں کہ ڈاکٹروں نے آخر بالکل جواب دے دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے دماغ نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ان کی حالت جو ہے وہ اس قدر حد سے گزر چکی ہے کہ ڈاکٹری نکتہ نگاہ سے اب کوئی امید نہیں رہی۔اُس وقت ان کے بعض عزیز روتے ہوئے میرے پاس آئے اور نڈھال ہورہے تھے انہوں نے کہا یہ آپ کی تحریک کے نتیجہ میں ، اس طرح انہوں نے اخلاص سے قربانی دی تھی ، کچھ کریں۔اُس وقت میں نے خصوصیت سے ان کے لئے دُعا کی اور یہی حوالہ دیا کہ اے خدا! اِس نیک خاتون کو زندہ رکھ اور احمدیت کی صداقت کا نشان بنا اور اس کے بچے کو بھی زندہ رکھ۔چنانچہ بجائے اس کے کہ وہ ان کی تدفین کی تیاری کرتے۔دیکھتے دیکھتے سانس پلٹ گئی ، ہوش آنا شروع ہوا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ہمارے علم کے مطابق اس عورت کو مر جانا چاہئے تھا اور اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی دماغی قابلیتیں واپس نہیں آسکتیں کیونکہ ان کو نقصان پہنچا ہے لیکن خدا کے فضل سے وہ ساری قابلیتمیں واپس آئیں اور آج جس آواز سے انہوں نے تلاوت کی ہے اُس سے ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ خدا کے فضل سے بیماری کا کوئی بداثر باقی نہیں رہا۔ایسے اور بھی بہت سے واقعات ہوتے رہے ہیں جن کا شمار ممکن نہیں اللہ کے فضل کے ساتھ۔احمدی ہمیشہ دعاؤں کی قبولیت کے نمونے دیکھتے ہیں اور ان کے ایمان تازہ ہوتے ہیں۔تو یہ ایک ایسا نمونہ تھا جو میں نے چاہا کہ آپ کو بھی اس ذکر میں شامل کرلوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نظم میں سے چندا شعار مسز امتہ الکریم کو کب پیش فرمائیں گی۔