اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 153

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۵۳ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء اکٹھے ہو جائیں اور نیکی کو فروغ دینے کی کوشش کریں، محبت کو فروغ دینے کی کوشش کریں، ہرگز کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ایک دوسرے سے نفرت پیدا ہو۔اگر آپ یہ مثالیں اس ملک میں قائم کریں گی تو جرمن خواتین جو آپ کو چاروں طرف سے دیکھ رہی ہیں ان کے دل میں آپکی نہیں اسلام کی محبت پیدا ہوگی اسلام کی عظمت ان کے دل میں پیدا ہوگی آپ ان کی بھی معلم بن سکیں گی لیکن اگر ایسا نہیں کریں گی تو وہ سمجھتی ہیں کہ یہ پناہ لینے کے لئے اپنے اقتصادی مقاصد کی خاطر یہاں پہنچ گئے ہیں یہ لوگ ہیں تو اس قسم کی تیسری دنیا کے لوگ جو ہم سمجھا کرتے تھے ان سے ہم نے کیا لینا ہے۔وہ آپ کو ایسی نظر سے دیکھتی ہیں جیسے کوئی بلندی سے نیچے دیکھ رہا ہواور کہتی ہیں کہ ٹھیک ہے ان کے ساتھ گزارہ کرو لیکن ہم الگ لوگ ہیں اور یہ الگ لوگ ہیں۔لیکن اگر آپ اسلام کے بتائے ہوئے حسن کو اختیار کریں، اس زیور سے آراستہ ہوں اور دنیا کے حسن کو اس کے مقابل پر اس کو ترجیح دیں تو میں یہ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ جو مغربی قومیں ہیں یہ بڑی زیرک ہیں، بڑی باریک نظر سے دیکھنے والی ہیں یہ لازماً آپ سے محبت کے نتیجے میں اسلام سے محبت کرنے لگیں گی۔جتنے بھی نو مبائعین مجھے ملتے ہیں میں ان سے پوچھا کرتا ہوں کیوں آپ نے اسلام کی طرف توجہ دی، کیوں تحقیق کا خیال پیدا ہوا؟ الا ما شاء اللہ ہمیشہ ہی یہ جواب ملتا ہے کہ فلاں خاندان کے نیک رویے فلاں بہن کے حسن سلوک اور اس کی نیک عادات اور اس کی خصلتوں سے متاثر ہوکر ،فلاں مرد کے اعلیٰ کردار سے متاثر ہوکر۔اسلام سے محبت نظریات کے ذریعہ پیدا نہیں ہوگی وہ بعد کی بات ہے پہلے انسان انسان کو جیتا کرتا ہے،اس میں مذہب کا کوئی سوال نہیں ہوا کرتا۔آپ میں اگر جیتنے کی خصلتیں پیدا ہوں گی تو یہ قومیں جیتی جائیں گی۔بحیثیت ایک مسلمان خاتون کے آپ کو ایک سنگھار کرنا ہوگا ، وہ سنگھار نہیں جو سرخی اور پاؤڈر سے تعلق رکھتا ہے، وہ سنگھار جو روح کو حسین بناتا ہے،فطرت کو دلکش بنادیتا ہے،اخلاق میں دلر بائی پیدا کر دیتا ہے، ایسا حسن پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان اس پر بھیجنے پر مجبور ہوجاتا ہے، یہ وہ کام ہے جو لجنہ اماءاللہ جرمنی کو کرنا چاہئے اور اگر آپ ان باتوں کو توجہ سے سن کر اپنے پلے باندھیں گی اور اختیار کرنے کی کوشش کریں گی تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کی فتح جو بہت دور دکھائی دے رہی ہے وہ آپ کو بہت قریب نظر آتی دکھائی دے گی۔آپ اسلام کی فتح کے قدموں کی چاپ سن سکیں گی۔اس تیزی کے ساتھ مغرب کو اسلام کے اعلیٰ اخلاق کی ضرورت ہے اور وہ اس کی پیاس محسوس کرتے ہیں مگر نظریات سے نہیں مانیں گے وہ نمونوں سے مانیں گے اور وہ نمونے آپ نے پیدا