اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 139

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۳۹ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء کوشش کریں، خواہ بہن بھائی کے رشتوں پر حملہ آور ہو یا بھائی بہن کے رشتوں پر حملہ آور ہو، جہاں جہاں بھی آپ نے ایسی کوشش کی کہ رحمی رشتوں کو قطع کرنا شروع کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے رحم سے تم لوگ کاٹے جاؤ گے۔ساتھ ہی اس میں آپ کا اعزاز بھی دیکھیں کتنا ہے فرمایا رحم کا نام خدا نے اپنی رحمانیت کے مطابق رکھا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ رحمی رشتوں کے نتیجے میں رحم پھیلنا چاہئے اور طبعی بات یہی ہے کہ ان رشتوں کے نتیجہ میں آپس میں سوسائٹی میں محبت پھیلنی چاہئے جہاں کہیں آپ اس مضمون کو بھلا دیں گی اور بھلا دیتی ہیں اکثر وہاں آپ کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کس بات سے محروم ہورہی ہیں۔آپ سمجھتی ہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔میرے خاوند نے میری تائید کر دی یا ساس سمجھتی ہیں میرے بیٹے نے میرا ساتھ دے دیا اور اس طرح فساد بھی ہو گیا تو فرق نہیں پڑا لیکن اس محرومی کا آپ کو خیال ہی نہیں آتا کہ دنیا کے رشتوں نے تو آپ کا ساتھ دے دیا لیکن خدا نے آپ کا تعلق کاٹ دیا اور اس کا اعلان کر دیا ہے کہ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اگر تم بھائی چارے کو فروغ دوگی بڑھاؤ گی اور محبتیں پھیلاؤ گی تو یا درکھو خدا تم پر رحم کرے گا اور رحمت کا سلوک فرمائے گا اگر اس کے برعکس کام کرو گی تو خدا کی مت سے کاٹی جاؤ گی۔مردوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن چونکہ رحم والی حدیث بتلا رہی ہے کہ عورت کے ساتھ اس مضمون کا گہرا تعلق ہے اس لئے میں خاص طور پر اس آیت کی تشریح آپ کے سامنے کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بخشے۔آمین يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ (الحجرات :۱۲) پھر آپ نے فرمایا ( ترجمہ ) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے اور یہ بات بھی خاص طور پر پاکستان سے آنے والوں کو پیش نظر رکھنی چاہئے جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے مغربی قوموں میں آپس میں ایک دوسرے سے تمسخر کا رجحان نہیں پایا جاتا سوائے اس کے کہ بعض قومی رقابتوں کے نتیجہ میں وہ ایک دوسرے کے خلاف بعض مذاق بناتے ہوں اس لئے اس پہلو سے یہ آیت ان پر بھی اطلاق پاتی ہے مثلاً انگریز جب جرمن کی بات کرے گا تو کہے گا گو بھی کھان، پنجابی میں کہتے ہیں نا گو بھی کھان کہ گو بھی کھانے والی قوم ہے اور اسی طرح جرمن فرانسیسی انگریزوں کے اوپر مذاق کرتے ہیں۔انگریز پھر آئرش پر مذاق کرتے ہیں، سکائش کے خلاف لطیفے بنائے ہوئے ہیں۔یہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم کھول کر بیان کرتا ہے کہ جہالت کی باتیں ہیں، لغو باتیں ہیں