اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 140

حضرت خلیفہ آسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۰ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء مومن کی شان نہیں ہے کہ ایسی باتیں کرے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یعنی پاکستان میں اور ہندوستان میں بھی بہت کثرت کے ساتھ یہ بیماری پائی جاتی ہے۔پنجاب کا معاشرہ تو ہندواثرات کے نیچے بالکل قومی بندھنوں میں جکڑا جا چکا ہے۔ایک راجپوت ہے وہ آرائیں کے متعلق باتیں کرے گا۔ایک آرائیں ہے وہ کسی اور قوم کو مذاق کا نشانہ بنائے گا۔کوئی جولا ہے پر باتیں ہورہی ہیں کوئی اس پر لطیفے بنائے جار ہے ہیں، میراثی کے اوپر کوئی میراثی دوسروں پر بنارہا ہے ،لطیفوں میں خصوصاً جو پنجاب میں لطیفے بنتے ہیں آپ اکثر قومی رجحانات دیکھیں گے کوئی لطیفے کشمیری قوم پر ہیں، کوئی پٹھان قوم پر ہیں، کوئی زمینداروں جائوں کے اوپر ہیں کوئی قوم نہیں ہے بچی ہوئی جس کے اوپر لطیفے نہ بنائے گئے ہوں۔چنانچہ قرآن کریم فرمارہا ہے کہ ایسی جہالتوں میں نہ مبتلا ہو اس کے نتیجے میں تمہارے تعلقات کاٹے جائیں گے۔خدا کے نزدیک کوئی قوم کسی دوسری قوم سے بحیثیت قوم فضیلت نہیں رکھتی ، زمیندار اپنی جگہ اور میراثی اور جولا ہے یہ سارے اپنی جگہ یہ سارے قوم کی خدمتیں کرنے والے مختلف پیشوں میں بٹے ہوئے لوگ ہیں اور جہاں تک ان کی عزت کا تعلق ہے ، قرآن کریم فرماتا ہے تم میں سے جو تقویٰ میں آگے ہے وہی معزز ہے۔اگر کوئی جولاہا زیادہ متقی ہے تو وہی معزز ہے اور یہ بات یادرکھیں یہ جو کہا جاتا ہے کہ جولا ہے بے وقوف ہوتے ہیں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ بے وقوف وہ ہوتا ہے جو خدا سے دور ہے اور جو خدا کے نزدیک ہوا سے عقل ملنی شروع ہو جاتی ہے خواہ وہ کسی قوم سے بھی تعلق رکھتا ہو۔جماعت احمدیہ میں بھی بعض علماء مختلف قوموں سے آئے اور بعض جاہلوں نے ان کو مذاق کا نشانہ بنایا لیکن ہم جانتے ہیں کہ بعض جولا ہے ان میں سے اتنے عقلمند ثابت ہوئے کہ دوسری قوموں کے بڑے بڑے فرزانوں کے اوپر ان کو فتح نصیب ہوئی کیونکہ متقی تھے۔چنانچہ قرآن کریم کا یہ فرمان إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَقُكُم بالکل سچا ہے سو فیصدی درست ہے۔عقل تقویٰ سے آتی ہے خدا سے دوری کے نتیجے میں عقل نہیں آیا کرتی۔چنانچہ یہ دعوی کہ یہ لوگ عام لوگ ہیں بے چارے جن کی نہ قو میں نہ دنیاوی عزتیں ہیں یہ بے وقوف ہوتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے یہ دعویٰ اسلام کے دشمن جہلاء کیا کرتے ہیں وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاء ترجمہ۔جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اے لوگو! ایمان لاؤ جس طرح عوام الناس ایمان لائے ہیں تو آگے سے جواب دیتے ہیں عوام الناس کی کیا حیثیت ہے ہم تو معزز لوگ ہیں ، ہم صاحب فہم اور صاحب عقل لوگ ہیں۔کیا ہم اسی طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بے وقوف لوگ ایمان