اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 120
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۰ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء کام کرنا ہم کچی مٹی ہو تو بچہ کھیلتا تو تھا لیکن دل میں بہت دکھ محسوس کرتا تھا کم سے کم میں ضرور کرتا تھا۔اگر صرف عورت کیلئے فرمایا ہوتا کہ حج کرنا تمہارا جہاد ہے تو اسے ضرور کچی مٹی کا احساس رہتا لیکن دیکھئے حضرت رسول کریم کی شان کہ اس کے دل میں اپنی عظمت کا احساس قائم کرنے کیلئے اور بتانے کیلئے کہ تم سے کوئی ثانوی سلوک نہیں ہورہا۔مردوں کو بھی اس میں شامل کر دیا کمزوروں اور بیماروں اور بچوں کو بھی شامل کر دیا اور حکمت بیان فرما دی، جن کیلئے حج زیادہ دوبھر ہے ان کیلئے ، یہ وہی لوگ ہیں جو جہاد بھی نہیں کر سکتے۔دیکھئے آنحضرت کی باتوں میں کتنی گہری حکمت ہوا کرتی تھی۔سرسری نظر سے آپ حدیثوں کو پڑھ کر آگے گزر جائیں۔آپ کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ ان کے اندر کیسے خزائن مخفی ہیں۔اب دیکھئے بوڑھے پر جہاد فرض نہیں ، بچے کے لئے جہاد فرض نہیں ، کمزور کے لئے جہاد فرض نہیں اور عورت کیلئے جہاد فرض نہیں ایک ہی وجہ سے اور جن جن کے لئے جہاد فرض نہیں ان کے لئے حج کو جہاد کا قائمقام قرار دے دیا۔جہاں تک عورت کے معلم اور مربی ہونے کا تعلق ہے اسلام نہ صرف عوررت کو عورتوں کا معلم اور مربی تسلیم کرتا ہے، یہ حق دیتا ہے اور یہ مقام دیتا ہے کہ وہ عورتوں ، مردوں کی تعلیم کر سکتی ہے اور ان کی تربیت کرسکتی ہے بلکہ عورت کو صرف گھر میں ہی اپنے بچوں کی مربی نہیں بلکہ باہر کی دنیا کے مردوں کا بھی مربی اور معلم بننے کا حق دیتا ہے اور یہ وہ حق ہے جو آج تک عیسائی مذہب کے تمام فرقوں کے چرچوں نے عورت کو نہیں دیا اور جہاں دیا جاتا ہے وہاں بخشیں چھڑ جاتی ہیں کہ نیا مذہب بنارہے ہو، عیسائیت میں دخل اندازی کر رہے ہو۔کئی عیسائی جو زیادہ کٹر ہیں یا قدامت پسند ہیں وہ ان فرقوں کو چھوڑ کر بغاوت کر جاتے ہیں کہ جہاں عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ مذہب سکھائے یا تعلیم دے باہر نکل کر مردوں کو ، ہم ایسے مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے لیکن ۱۴۰۰ سو سال قبل آنحضرت نے عورت کو نہ صرف یہ حق دیا بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ آپ کی زوجہ محترمہ نے آپ کی زندگی میں بھی مردوں کو مسائل سکھائے اور آپ کے وصال کے بعد تو اتنا دین سکھایا کہ تمام اہل السنت والجماعت کے فقہاء متفق ہیں کہ ہم نے آدھا دین عائشہ سے سیکھا ہے۔اس کثرت سے دینی روایات اور علمی روایات حضرت عائشہ کی ملتی ہیں اور ان روایات میں اتنی روشنی ہے کہ باقی روایات سے وہ ممتاز ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ کی روایات میں آگے چل کر کچھ شاید مثالیں آئیں یہاں سامنے۔آپ حیران ہوں گی کہ مردوں کی ، عام مردوں کی ، عام صحابہ کی روایات کے مقابل پر بہت زیادہ روشنی اور جلا ہے