اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 97
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۹۷ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء مردوں کے مقابل پر بڑھ گئی اور معاشرے میں اس کے نتیجے میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔یہ بے چینی باہر کی دنیا کو اس لئے نمایاں طور پر نظر نہیں آئی کہ یہاں سوسائٹی ویسے ہی آزاد تھی اور جن عورتوں کو خاوندمل ہی نہیں سکتے تھے عددی طور پر ناممکن تھا اور چونکہ وہ اسلام کی قائل نہیں تھیں اس لئے ایک سے زیادہ شادیوں کا حل بھی ان کے سامنے نہیں تھا۔وہ آزاد تھیں کہ پھر دوسری عورتوں کے خاوندوں کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں۔جہاں تک بھی آپس میں ممکن ہے اس بات کو خفیہ رکھنا۔اور اس معاشرے میں جو بدیوں کا زیادہ آغاز ہوا ہے جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے وہ پہلی جنگ کے بعد شروع ہوا ہے خاص طور پر اور پھر دوسری جنگ میں بڑی تیزی سے پھیلا ہے اور آج جو یہ سوسائٹی اور ہی ہے کہ معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہے اس کا گہرا تعلق ان دو جنگوں سے ہے۔اس سے پہلے جو یورپ کے حالات کا مطالعہ کر کے دیکھیں یہاں عصمت کا معیار بہت بلند تھا لیکن جنگوں نے ایک ضرورت پیش کی ان کے مذہب اور ان کے معاشرے نے اس ضرورت کا حل پیش نہیں کیا۔نیچے طبعی طور پر آزادی پھیلنی شروع ہوئی اور اس آزادی کے نتیجے میں مردوں کے اخلاق بھی تباہ ہوئے عورتوں کے اخلاق بھی تباہ ہوئے اور شادی شدہ گھروں کا امن بھی اُٹھ گیا۔تو شادی کی اجازت نہ دینا بظاہر ایک عورت کے دل کے سکون کی حفاظت ہے مگر فی الحقیقت ایسے زمانے دنیا میں آتے ہیں کہ شادی کی اجازت نہ دینا ساری عورتوں کے دل کا سکون اُٹھانے والی بات بن جاتی ہے۔یہ حالت اس وقت یورپ کی ہو چکی تھی۔میں نے ایک دفعہ پہلے بھی شاید آپ کے سامنے مثال پیش کی تھی یا سوال و جواب کی مجالس میں کرتا رہا کہ ہمارے ایک تعلق والے دوست پاکستان سے تشریف لائے۔ہندوستان سے اس زمانے میں ہندوستان سے تشریف لائے اور انہوں نے اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا اس کا مضمون یہ تھا کہ میں شادی شدہ ہوں میرے اتنے بچے ہیں لیکن میں ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ دوسری شادی کروں اس لئے اگر یورپ کی کوئی خاتون اس بات کے لئے آمادہ اور غالباً انہوں نے جرمن قوم کو خاص طور پر مخاطب کیا تھا کہ جرمن قوم میں چونکہ زیادہ عورتیں ہیں ایسی جو بیچاری مظلوم رہ گئی ہیں خالی اس لئے اگر ان میں سے کوئی خاتون راضی ان شرائط کو سمجھ کر تو وہ اپنا نام پیش کریں۔ان کو اتنی چٹھیاں ملیں کہ ہزار ہا خطوط عورتوں کے موصول ہوئے ان کو ایک پرائیویٹ سیکرٹری رکھنا پڑا اس کام کے لئے کہ ان خطوط کی چھان بین کرے اور جائزہ لے کہ ان میں سے چند عورتوں کے کوائف نکالے کہ نسبتا یہ بہتر معلوم ہوتی ہیں۔اس طرف توجہ کرو چنانچہ وہ اُس زمانے میں