اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 95
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۹۵ خطاب یکم اگست ۱۹۸۷ء مرد کو دی عورت کو نہیں دی۔دو اعتراضات کئے جاتے ہیں۔پہلے تو میں اس آیت کی تلاوت آپ کے سامنے کرتا ہوں تا کہ آپ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ لیں کیوں اجازت دی، کن شرائط کے ساتھ دی اور کیا ایسی صورت میں اجازت دینا درست تھا یا نا جائز تھا۔فرمایا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبعَ ، فَإِنْ خِفْتُم اَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا وَأَتُوا النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا (النساء:۴۔۵) فرمایا اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو صورت تمہیں پسند ہو کر لو۔یعنی غیر یتیم عورتوں میں سے دو دو اور تین تین اور چار چار نکاح کر سکتے ہو لیکن اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت پر اکتفا کرنا ضروری ہے یا وہ جو تمہارے ہاتھوں کے تابع ہو۔اس طریق سے بہت قریب ہے کہ تم ظالم نہ ہو جاؤ اور عورت کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں دیں تو اس میں سے بے شک خوشی سے اور شوق سے کچھ استعمال کر ولیکن عورت کی ملکیت پر اس کی مرضی کے بغیر نظر نہیں ڈالنی یہ اس کا مفہوم ہے۔یہ جو چار شادیوں تک کی اجازت ہے اس کے مختلف پہلو ہیں جن کو میں آج آپ کے سامنے الگ الگ نمایاں طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلی تو یہ بات ہے کہ یہ اجازت مشروط ہے اور دونوں طرف ایک شرط عائد ہوئی ہے۔اس آیت کے آغاز میں بھی یہ بیان فرمایا گیا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تب تمہیں اجازت ہے یعنی انصاف کی حفاظت کی خاطر اجازت ہے اور اجازت دینے کے بعد فرمایا