اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 93
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۹۳ خطاب کیکم اگست ۷ ۱۹۸ء پردے کے پیچھے حکمتیں کیا ہیں اور اسلامی پردہ کی نوعیت کیا ہے۔خلاصہ چند نکات آپ کے سامنے رکھتا ہوں پہلی بات یہ ہے کہ نظر کا پردہ ہے جس پر زور دیا گیا ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں۔عورت کو یہ تعلیم ہے کہ بطور خاص اس بات کا خیال رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اسے حسین اور دلکش بنایا ہے اس لئے اگر وہ ذرا بھی زینت اختیار کرے گی اور اپنے اعضاء کو چھپانے میں احتیاط سے کام نہیں لے گی تو مرد بھٹک جائیں گے اس لئے ان پر رحم کرے اور اپنے آپ کو سمیٹ کر چلے اور اپنے حسن کی حفاظت کرے۔چادر وغیرہ کے پردے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اسلامی اصول کی فلاسفی میں وضاحت فرمائی ہے وہ میں بارہا آپ کے سامنے پیش کر چکا ہوں۔اس کے علاوہ بوڑھی عورتوں کو اسلام پردہ سے مستثنی قرار دیتا ہے۔یعنی ایسی عورتیں جن کے متعلق کسی ظالم کا بد نظر ڈالنے کا سوال ہی باقی نہ رہے۔کام کرنے والی عورتوں ، خدمت کرنے والی عورتوں کو اس حد تک پردہ کی پابندی سے آزاد رکھا گیا ہے جس حد تک کام کے سلسلہ میں ان کا اپنی زینت کو ظاہر کرنا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن کو اسلامی طریقوں کی خبر نہیں۔بلکہ مقصود یہ ہے کہ عورت مرد دونوں کو آزاد نظر اندازی اور اپنی زنیتوں کے دکھانے سے روکا جائے کیونکہ اس میں دونوں مرد اور عورت کی بھلائی ہے۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ خوابیدہ نگاہ سے غیر محل پر نظر ڈالنے سے اپنے تئیں بچالینا اور دوسری جائز النظر چیزوں کو دیکھنا اس طریق کو عربی میں نغض بصر کہتے ہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلده اص: ۳۴۴) یعنی اگر خوابیدہ نظر پڑ جائے تو یہ اس تعلیم قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔کیونکہ غض بصر میں یہ خوابیدہ نظر بھی شامل ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فی زمانہ یہ تعلیم قابل عمل نہیں رہی۔کیونکہ چودہ سوسال کے اندر دنیا کے حالات بدل چکے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں۔مگر اے پیارو! خدا آپ تمہارے دلوں میں الہام کرے۔ابھی وہ