اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 90

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء ہمارے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔اگر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں منع کرنا چاہیں تو جس چیز سے منع کرنا چاہیں آپ منع کر سکتے ہیں۔اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مطالبہ نہ کریں تو کس سے کریں۔ابھی تک یہ حال تھا کیا آپ حضرات اپنی بیویوں کے معاملات میں کسی دوسرے کا دخل پسند کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو یہاں سے تشریف لے جائیں آپ کا کوئی کام نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کی بیویوں کے درمیان دخل اندازی کا۔یہ بات کسی عرب کے تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی اسلام سے پہلے اس طرح عورت کھڑی ہو کر مردکو مخاطب ہوسکتی ہے۔(طبقات ابن سعد صفحه ۲۹ صحیح مسلم کتاب الطلاق ) ایک دفعہ حضرت عمرؓ کا اپنی بیوی سے ایک معاملہ میں اختلاف رائے ہوگیا۔ان کی بیگم حضرت عاتکہ نماز کی بہت شائق تھیں اور نماز با جماعت کی تو ان کو عادت پڑ چکی تھی وہ رہ ہی نہیں سکتی تھیں نماز با جماعت کے بغیر۔پانچ وقت عورت گھر سے نکلے جب اس پر فرض ہی نہ ہو اور پانچ وقت مسجد میں پہنچے تو پیچھے گھر کی ضروریات کا کیا حال ہوتا ہوگا اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر نے آخر کچھ عرصہ حوصلہ کے بعد ان سے کہا بی بی! بس کرو کافی ہو گئیں نماز یں۔گھر میں اجازت ہے تم کیوں مسجد جاتی ہو؟ اور کہا کہ خدا کی قسم تم جانتی ہو کہ تمہارا یہ فعل مجھے پسند نہیں۔انہوں نے کہا واللہ ! جب تک آپ مجھے مسجد جانے سے حکما نہیں روکیں گے میں نہیں رکوں گی اور حضرت عمر کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ بیوی کو حکما مسجد جانے سے روک دیں۔چنانچہ آخر وقت تک انہوں نے یہ سلسلہ نہیں چھوڑا اور باقاعدہ مسجد جا کر نماز پڑھتی رہیں۔صحابہ یہ بیان کرتے ہیں بخاری میں روایت ہے کتاب الا نکاح باب الوصاة بالنساء۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہتے ہیں کہ : حال یہ ہو گیا تھا ہمارا کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی عورتوں سے بے تکلفی سے گفتگو کر کے ڈرنے لگے تھے کہ کہیں یہ شکایت کر دیں اور ہمارے خلاف کوئی آیت نہ نازل ہو جائے۔یہ تھا مرتبہ اُس عورت کا جسے ظالمانہ طور پر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔جس سے غلاموں اور لونڈیوں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔سب سے زیادہ مظلوم حالت عرب کی عورت کی تھی اُس دور میں اور کہاں سے کس شان پر پہنچا دیا ہے۔