اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 91

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۹۱ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء تمام زندگی میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کسی عورت پر ہاتھ نہیں اُٹھایا، کسی بچے پر ہاتھ نہیں اُٹھایا، کسی غلام پر ہاتھ نہیں اٹھایا اس لئے اس بات سے ایک اور بھی نکتہ نکلتا ہے کہ وہ تعلیم جو آپ پر نازل ہوئی وَاضْرِبُوهُنَّ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل کی تعلیم نہیں تھی وہ خدائے واحد ویگانہ کا پیغام تھا کہ جس کے قلب کی یہ حالت ہو کہ ساری عمر اپنے غلاموں سے، اپنے ماتحتوں سے، اپنے دشمنوں سے یہ سلوک رہا ہو جو زیادتیاں بھی کر رہے ہوں ، نافرمانیاں بھی کر رہے ہوں ، منہ سے سخت کلام بھی ان کے متعلق نہ نکلا ہو وہ یہ تعلیم سوچ ہی نہیں سکتا تھا کہ وَاضْرِبُوهُنَّ ان کو مارو۔اس لئے جو خدا انسانی فطرت سے واقف ہے، جو جانتا ہے کہ بعض دفعہ گھروں میں ایسی شد تیں اور عورتیں ایسے طریق اختیار کر لیتی ہیں کہ اگر ان کو یہ خوف نہ رہے کہ ایک مقام پر جا کر ان کو سزا ملے گی تو وہ حد سے زیادہ بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔اس خدا کے سوا یہ تعلیم نازل نہیں کر سکتا کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مزاج کے خلاف بات تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ملفوظات جلد دوم ص: ۳۸۷ پر یہ عبارت درج ہے جو میں آپ کے سامنے پڑھ کے سنانے لگا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عورتوں سے کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نا مرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسے خلیق تھے۔باجود یکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۸۷) یہ ہے اسلامی تعلیم جو اس رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھی۔جس پر وہ آیت نازل ہوئی تھی جسے اعتراض کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ ہے اس کی زندگی بھر کا نمونہ اور کسی مسلمان کو حق نہیں ہے اور تمام فقہا ء اس پر متفق ہیں کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا کوئی ایسا مطلب نکالیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی مخالفت کرنے والا مطلب ہو اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کامل نمونه قرآن کریم کی کامل تفسیر ہے۔اس کے مطابق فیصلہ ہوگا کہ کوئی تعلیم کیا ہے اور اس کا مقصود کیا تھا۔