اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 87

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات AL خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء والہ وسلم نے عورت کے لئے ایجاد فرمایا تھا کہ Glass With Care تو جس کا اپنا رجحان یہ ہو عورت کی طرف اس کی طرف ظلم کی تعلیم منسوب کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت صفیہ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے۔اونٹ نے ٹھوکر کھائی اور گر گیا۔سارے عشاق حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دوڑے۔تو آپ نے فرمایا ”المرءة المرءة “ میرا خیال چھوڑ و عورت کی خبر لو۔عورت کی خبر لو۔(مسلم کتاب الفضائل ) Ladies First کا یہ محاورہ آج کل بنا کر پھرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو کیسی ماڈرن کیسی اچھی تعلیم ہے۔چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ محبوب تھے تمام غلاموں کے سامنے اور آپ کے سامنے ہزاروں لاکھوں کو تکلیف پہنچ جاتی تو ان کو کوئی پرواہ نہ رہتی۔بے اختیار عشق میں وہ آپ کی طرف دوڑے تھے کوئی مردعورت کا فرق نہیں کیا جارہا تھا لیکن اس کے باوجود اپنے مذہبی بلند مرتبے کو سامنے رکھنے کے باوجود آپ نے یہی فرمایا: ”المرءة المرءة“ عورت کا خیال کرو۔عورت کا خیال کرو۔کدھر دوڑے چلے آرہے ہو۔یہ نہیں ہوا کہ کبھی آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف آپ کی خواتین نے کبھی کوئی ایسی کارروائی نہیں کی اس لئے آپ نے جوابا ان کو کچھ نہیں کہا۔امر واقعہ یہ ہے کہ بعض اوقات خود امہات المومنین سے ایسی باتیں سرزد ہوئیں جن کے متعلق قرآن کریم نے اس آیت میں ذکر فرمایا يَايُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أَمَتَّعْكُنَّ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا (الاحزاب : ۲۹) طلاق تک نوبت آگئی ایسے مطالبے تھے کہ جو نا جائز تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی کہ ساری بیویوں کو بلاؤ اور ان سے کہہ دو کہ اگر تم نے یہی مطالبے کرتے چلے جانا ہے تو پھر ٹھیک ہے گھر کا ماحول خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔آؤ میں تمہیں اموال سے لا ذکر رخصت کرتا ہوں لیکن پھر میرے ساتھ نہیں رہنا تم نے کیونکہ میری ایسی ذمہ داریاں ہیں جن کو ادا کرنے کے لئے میں ایک خاص قسم کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوں لیکن عورت کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا کہ وہ اچھے حال میں رہے، فرمایا ٹھیک ہے تمہیں اختیار ہے اگر اچھا حال اختیار کرنا ہے