اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 692
حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۶۹۲ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء ہونا چاہئے۔اپنی اولا د سے پیار تو کرو لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ اولاد کا زیادہ پیار بھی بہت بڑے فتنوں میں ڈال دیتا ہے انسان کو اور اکثر لوگ اپنی اولاد سے زیادہ پیار کے نتیجے میں ان کو بگاڑ دیتے ہیں اور بڑے ہوکر ان کے گناہوں کے ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔فرماتے ہیں۔اپنی حالت کی پاک تبدیلی کی دُعاؤں کے ساتھ اپنی اولا داور بیوی کے واسطے بھی دُعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر آجاتے ہیں۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ فرماتے ہیں: ” جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دین دار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کے بجائے ان کا نام ( ملفوظات جلد اول ص ۵۶۰) باقیات سیات رکھنا جائز ہوگا۔“ یعنی ایسی اولاد کے متعلق یہ خیال کہ وہ نیک طور پر باقی رہیں گی یہ ایک وہم ہے ایسی اولاد بدیوں کے ساتھ باقی رہتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا اتنا کہنا بھی نرا ایک دعوی ہے جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۵۶۰) اور ماں باپ اولاد کے متعلق تو لازما چاہتے ہیں کہ وہ نیک ہولیکن اپنی حالت نہیں بدلتے اور بچے بڑے ذہین ہوتے ہیں وہ اپنے ماں باپ کی ایسی حالت دیکھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ ان کو تو بدی سے محبت ہے اور ہمیں نیکی کی تعلیم دے رہے ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نکتہ سکھایا ہے کہ جب تک اپنی حالت کی اصلاح نہ کرو تمہارا منہ سے بچوں کو نیک نصیحتیں کرنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا۔اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعوی میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بناوے۔تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہوگی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہوگی کہ اس کو باقیات