اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 691
حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۶۹۱ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ خدا کی طرف سے تو مکلف ہوئے نہیں اور تمہارے مکلف کیسے ہو سکتے ہیں۔مطلب ابھی ان کی عمریں نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کو جواب دیں تو آپ ان کی بلوغت سے پہلے ان پر سختی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ایک حدیث ہے ( مسلم کتاب الفضائل سے ) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے اپنے ایک کام کے لئے بھیجا اس وجہ سے میں اپنی ماں کے پاس دیر سے پہنچا۔میری ماں نے مجھ سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا تھا۔میری ماں نے پوچھا کہ وہ کام کیا تھا میں نے جواب دیا کہ یہ ایک راز کی بات تھی۔میری ماں نے کہا کہ تو پھر حضور کا راز کسی کو نہ بتائی۔حضرت انس نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنے ملا زم ثابت سے فرمایا اے ثابت اگر وہ راز کی بات میں کسی کو بتا سکتا تو تجھے ضرور بتا دیتا۔نماز کی نصیحت : حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جا ئیں تو انہیں نماز پڑھنے کی تاکید کیا کرو، جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر کچھ پتی کرومگر یہ بختی معمولی سختی ہونی چاہئے۔ایک دو پیٹھ پر تھپڑ مار دیں تھوڑے سے۔اس سے زیادہ سوٹیوں وغیرہ سے سختی مراد ہرگز نہیں ہے۔اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز پسند نہیں فرمایا کرتے تھے جب اسال کے ہو جائیں تو پھر کچھ سختی کیا کرو اور اسی عمر میں ان کے بستر بھی الگ کر دیا کرو اور ان کو الگ الگ بستر پر سلایا کرو جب ۲ سال کے ہو جائیں تو پھر ان پر کسی قسم کی تختی کی اجازت نہیں ہے۔پھر ان کا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔تمہارے بچپنے کی تربیت ان کے کام آئے گی یا تمہاری دعائیں ان کے کام آئیں گی۔حضرت ابن عباس کی بخاری میں یہ روایت درج ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ کے گھر رات گزاری رات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے میں بھی حضور کے بائیں طرف کھڑا ہوا۔حضور نے مجھے سر سے پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا اور یہ بھی یا درکھیں لڑکے ہوں تو ان کو امام کی دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔لڑکیاں ہوں تو انہیں امام کی بائیں طرف کھڑا