اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 690

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۹۰ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء لے گئے تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی روایت ہے۔بارہا میں نے دیکھا اپنے اور دوسرے بچے آپ کی چار پائی پر بیٹھے ہیں اور آپ کو مضطر کر کے پائنتی پر بٹھا دیا اور اپنے بچپنے کی بولی میں مینڈک اور کوے اور چڑیا کی کہانیاں سنا رہے ہیں اور گھنٹوں سنائے چلے جارہے ہیں حضرت ہیں کہ بڑے مزے سے سنے جا رہے ہیں گویا مثنوی ملائے روم سنارہے ہیں۔حضرت بچوں کو مارنے اور ڈانٹنے کے سخت مخالف تھے۔بچے کیسا ہی بسوریں ، شوخی کریں ، سوال میں تنگ کریں اور بے جا سوال کریں اور ایک موہوم اور غیر موجود شئے کے لئے حد سے زیادہ اصرار کریں آپ نہ تو کبھی مارتے ہیں اور نہ جھڑکتے ہیں اور نہ کوئی خفگی کا اظہار کرتے ہیں۔بچوں کو اچھی کہانیاں بھی سنانی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایت ہے آپ نے فرمایا اچھی کہانی سنادینی چاہئے اس سے بچوں کو عقل اور علم آتا ہے۔میں بھی اردو کلاس میں بعض کہانیاں بچوں کے لئے سنایا کرتا تھا اور خود ہی بنا بنا کے سنا دیتا تھا۔بہت بچے دلچسپی لیتے تھے۔اس سے اُردو بھی آجاتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت پر بھی مجھے عمل کرنے کی توفیق مل جاتی تھی۔حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ ان کے ابا جان ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے بچے کو ایک غلام تحفتہ دیا ہے۔حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا تحفہ دیا ہے۔میرے ابا نے عرض کیا کہ نہیں حضور! آپ نے فرمایا: تو وہ واپس لے لو۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولا د سے انصاف اور مساوات کا سلوک کیا کرو۔اس کو یا درکھنا چاہئے بعض بچے ماں باپ کو زیادہ پیارے ہوتے ہیں مگر جو کم پیارے ہیں ان سے بھی انصاف کا معاملہ لازمی ہے اگر انصاف نہیں کریں گے تو بچوں میں ایک دوسرے سے بھی بغض اور نفرت پیدا ہوگی۔اس پر میرے والد نے وہ تحفہ واپس لے لیا۔ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا مجھے اس حصہ کا گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم کا گواہ نہیں بن سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو سزا دینے کے سخت مخالف تھے یعنی اسکولوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت تھی اور بڑی سختی سے ہدایت تھی کہ بچوں کو استادسوٹیاں نہ مارا کریں۔مدرسہ تعلیم الاسلام میں جب کبھی استاد کے خلاف شکایت آتی اس نے کسی بچے کو مارا ہے تو سخت نا پسند فرماتے اور متواتر ایسے احکام نافذ فرمانے لگ گئے کہ بچوں کو جسمانی سزا نہ دی جائے۔چھوٹے بچوں