اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 689

۶۸۹ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات گردن پکڑی۔میں نے مڑ کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔آپ نے فرمایا انس جس کام کی طرف میں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے۔میں نے عرض کی ہاں یارسول اللہ ! انس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے 9 سال تک حضور کی خدمت کی مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں نہ کیا اور یہ کام کیوں کیا وغیرہ۔گویا کہ آپ حضرت انس سے بہت ہی شفقت فرمایا کرتے تھے اور اگر وہ اپنے کام سے غفلت بھی برتتے تھے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو معاف فرما دیا کرتے تھے۔آپ کی طبیعت میں بے انتہا عفو تھا۔حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو اہل بیت کے بچے بھی آپ کے استقبال کے لئے آتے۔ایک دفعہ جب آپ سفر سے آئے تو سب سے پہلے مجھے آپ تک پہنچایا گیا۔آپ نے مجھے گود میں اُٹھا لیا۔پھر حضرت فاطمہ کے دو بیٹوں امام حسن یا امام حسین میں سے کسی ایک کو لایا گیا تو آپ نے اسے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔اس طرح مدینہ منورہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ ایک اونٹ پر ہم تین سوار تھے۔اب اونٹوں کا زمانہ تو نہیں رہا لیکن بچوں کو پیار سے اپنے ساتھ بٹھانا اگر وہ سواری کرتے ہیں تو سواری میں بٹھا لینا ، موٹر چلاتے ہیں تو موٹر میں گود میں بٹھا لینا یہ بھی سنت نبوی کے مطابق ہے۔میں بھی بچپن میں اس سنت پر عمل کیا کرتا تھا اور موٹر چلاتے ہوئے اپنی بچیوں کو باری باری اپنی گود میں بٹھا لیا کرتا تھا۔ایک روایت کتاب بخاری سے حضرت اسامہ بن زید کی طرف سے کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اٹھا کر اپنی ران پر بٹھا لیتے تھے اور حضرت حسن گو دوسری ران پر پھر انہیں بھینچ لیتے اور یہ دُعا کرتے اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما میں بھی ان سے رحم کا سلوک کرتا ہوں۔سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب کی روایت ہے آپ بچوں کو گود میں اُٹھاتے ہوئے باہر نکل آیا کرتے تھے اور سیر میں بھی اُٹھا لیا کرتے تھے اس میں کبھی آپ کو تامل نہ ہوتا تھا۔اگر خدام جو ساتھ ہوتے وہ خود اُٹھانا اپنی سعادت سمجھتے مگر حضرت بچوں کی خواہش کا احساس اور ان کے اصرار کو دیکھ کر خود اُٹھا لیتے اور ان کی خوشی پوری کر دیتے پھر کچھ دور جا کر کسی خادم کو دے دیتے یعنی اس طرح اُٹھا کر لئے پھرتے پھر کچھ دیر کے بعد لوگوں کی خواہش کے پیش نظر کسی ایک خادم کے سپر د بھی کر دیتے۔صاحبزادی امتہ النصیر کی وفات پر ان کا جنازہ بھی حضور نے اپنے ہاتھوں پر اٹھایا تھا اور چھوٹے بازار سے باہر نکلنے تک یعنی اڈہ خانہ تک حضور ہی اُٹھائے ہوئے