اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 688

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات سے کھجور نکال لی۔۶۸۸ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے یہ بھی بخاری ہی کی ایک حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حسن بن علی کو چوما تو پاس بیٹھے اقرع بن حابس تمیمی نے کہا کہ میرے تو دس بچے ہیں لیکن میں نے کسی کو کبھی نہیں چوما۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا جو تم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔پس بچوں کو جو پیار کرنا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی۔چھوٹے بچوں کو بھی اور بڑے بچوں سے بھی آپ ہمیشہ پیار فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت الادب المفرد بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا وہ اسے اپنے ساتھ چمٹانے لگا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس سے رحم کا سلوک کرتا ہے اس پر اس نے جواب دیا جی ہاں حضور۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تجھے پر اس سے بہت زیادہ رحم کرے گا جتنا تو اس بچے پر کرتا ہے کیونکہ وہ خدارحم الراحمین ہے۔۔سہل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ نہ بات کرے گا اور نہ ان کو پاک ٹھہرائے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا۔یہ بہت ہی بڑی تنبیہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی انتہائی ناراضگی کو ظاہر کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ تو سب کو دیکھ رہا ہے مگر بعض دفعہ انسان سے نظریں اس طرح پھیرتا ہے کہ انسان محسوس کرتا ہے کہ مجھے نہیں دیکھ رہا۔حضور سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں۔حضور نے فرمایا ایسا شخص جو اپنے والدین سے بے زار ہواور ان سے بے رغبتی رکھتا ہو۔اس سے بھی اللہ تعالیٰ صرف نظر فرمائے گا اور ایسا شخص جو اپنی اولاد سے بے زار ہواس پر بھی اللہ تعالیٰ رحم کی نگاہ نہیں ڈالے گا اور ایسا شخص جسے اس کی قوم نے نوازا تو ہو لیکن اس نے ان کی نوازشات کی ناقدری کی ہو اور ان سے بے تعلقی کا اظہار کیا ہو۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ایک بار آپ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا لیکن دل میں میرے یہ تھا کہ میں ضرور حضور کے حکم کی بجا آوری کے لئے جاؤں گا۔بہر حال میں چل پڑا اور بازار میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری