اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 670
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۷۰ خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء خوش ہو، مرد جس کام کے کرنے کے لئے کہے اسے بجالائے اور جس بات کو اس کا خاوند نا پسند کرے اس سے بچے۔یہ چند حدیثیں تھیں جو انگلستان میں عورتوں کے خطاب سے ابھی بچ گئی تھیں اور وہ میں نے آپ کے سامنے اب پڑھ کر پیش کر دیں ہیں۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عورتوں کو نصائح کے مضمون پر کچھ بیان کرتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں۔تقویٰ اختیار کرو، دنیا سے اور اس کی زینت سے بہت دل مت لگا ؤ، قومی فخر مت کرو، کسی عورت سے ٹھٹھا ہنسی مت کرو، خاوندوں سے وہ تقاضے نہ کرو جو ان کی حیثیت سے باہر ہیں ، کوشش کرو کہ تائم معصوم اور پاک دامن ہونے کی حالت میں قبروں میں داخل ہو۔خدا کے فرائض نماز زکوۃ وغیرہ میں ستی مت کرو اپنے خاوندوں کی دل وجان سے مطیع رہو۔بہت سا حصہ ان کی عزت کا تمہارے ہاتھ میں ہے سو تم اپنی اس ذمہ داری کو ایسی عمدگی سے ادا کرو کہ خدا کے نزدیک صالحات، قانتات میں گنی جاؤ۔اسراف نہ کرو اور خاوند کے مالوں کو بے جا طور پر خرچ نہ کرو، خیانت نہ کرو، چوری نہ کرو، گلہ نہ کرو ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگاوے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح: ۸۱) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے اور ایسے ہیں۔پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے۔پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہوئی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارے شروع کر دیتی ہیں۔کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں۔زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۹ جدید ایڈیشن ) یہ اکثر ہمارے ہندوستان میں عادات ہیں اور مغرب کی سوسائٹی میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ عیوب شاذ کے طور پر پائے جاتے ہیں۔روایت ہے کہ