اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 669
حضرت خلیفہ اصبح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۶۹ خطاب ۲۶ راگست ۲۰۰۰ء کے گھر رکھ دیا۔جس کے ہاتھ سے پیالہ ٹوٹا تھا۔بخاری کی ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزے نہ رکھے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر کے اندر آنے دے۔“ ایک حدیث بخاری کتاب النکاح میں درج ہے۔حضرت فاطمہ حضرت اسماء سے روایت کرتی ہیں کہ : ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! میری ایک سوتن ہے اگر میں جھوٹے طور پر اس کے سامنے یہ ظاہر کروں کہ خاوند مجھے یہ یہ چیزیں دیتا ہے حالانکہ اس نے مجھے نہ دی ہوں کیا مجھ پر یہ گناہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کہ نہ ملنے والی چیزوں کا جھوٹے طور پر اظہار کرنے والا ایسا ہی ہے گویا اس نے جھوٹے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔“ یعنی کپڑے اگر نہ پہنے ہوئے ہوں اور انسان دنیا میں بنگا پھرے اور سمجھے کہ میں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو اسی طرح اس عورت کی مثال ہے جو شیخی کر کے جھوٹ بول کے اپنی سوتن کو جلانے کے لئے بات کہتی ہے۔ایک روایت ابو داؤد کتاب الطلاق سے لی گئی ہے۔حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند سے بغیر کسی باس یعنی سخت بغیر معقول وجہ کے یعنی بغیر تکلیف اُٹھائے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہوگئی۔“ ایسی بہت سی شکایتیں ملتی ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے حقیقت حال کیا ہے کہ عورتیں خاوند کی زیادتی پر یا قصے بتا کر طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں بعید نہیں کہ وہ ٹھیک ہوں اور یہ بھی بعید نہیں کہ بہانہ بنایا جارہا ہومگر یا درکھیں اگر انہوں نے ناجائز طور پر طلاق کا مطالبہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ اس عورت پر جنت کی بوحرام ہے۔ایک روایت نسائی کتاب النکاح سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ : آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سی عورت بطور رفیقہ حیات بہتر ہے آپ نے فرمایا ! وہ جس کی طرف دیکھنے سے طبیعت