اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 643
حضرت خلیفہ اصبح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۴۳ خطاب یکم جولائی ۲۰۰۰ء چاہئے ، یہ پردے کی روح کے خلاف ہے۔ہونٹوں پر بہت زیادہ سرخی لگانا گھر میں تو جائز ہے کلوں پر سرخی لگانا گھر میں تو جائز ہے مگر جب باہر نکلیں تو اس کو صاف کر لیا کریں، بالکل اس طرح باہر نکلیں جس طرح مرد بغیر زینت کے باہر نکلتے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قدرتی حسن دیا ہے وہ تو ہے اس کو تو آپ چھپا نہیں سکتیں مگر بناوٹ کا حسن جو ہے اس کو اختیار کرنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہاں بچیوں کے پردے سے میں متاثر ہوا ہوں لیکن بچیوں کو بھی سرخیاں لگائی جاتیں ہیں اور کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ ان کے ہونٹوں پر تیز لپ سٹک لگائی جاتی ہے۔تو بچپن سے یہ عادت ڈالیں کہ بچیوں کو کسی لپ سٹک کی کسی روش کی کسی چیز کی ضرورت نہیں وہ وہی حسن جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے اس پر راضی رہیں اور یہ انڈونیشیا کے لئے ایک بہترین پر دے کا نمونہ ہوگا۔تو اس بات کے ساتھ میں اس بہت مختصر خطاب کو اب ختم کرتا ہوں کیونکہ مجھے احساس ہے کہ اس کا ابھی ترجمہ بھی ہونے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل فرمائے میں پھر ایک دفعہ آپ کو دُعا دیتا ہوں دعائیں کرتے ہوئے آئے ہیں، دعائیں کرتے ہوئے خیریت سے واپس جائیں۔بارش کی وجہ سے جو تکلیف پہنچی وہ تو قدررت کا فضل بھی ہے اور رحمت بھی ہے اور اپنی طرف سے بارش کے نتیجے میں جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ نشان ہی دکھاتا رہتا ہے۔جب انتہائی تیز بارش ہو رہی تھی تو نماز کے معا بعدا میر صاحب انڈو نیشیا نے مجھ سے فرمایا کہ بارش تھمنے کی دعا کریں۔ادھر انہوں نے کہا ادھر بارش تھم گئی اور اس کے بعد سے اب تک بالکل بارش نہیں ہوئی۔پس جو تکلیف پہلی بارش کی وجہ سے پہنچی اس سے بھی فائدہ ہوا ہوگا بہت سی بیماریاں دھل گئی ہوں گی۔تو اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے لئے بارش کو ہمیشہ نشان بنایا ہے، حیرت انگیز نشان دکھاتا ہے۔افریقہ سے کثرت سے احمدیت کی قبولیت کی جو باتیں ملتی ہیں ان میں بارش کا نشان بتایا جاتا ہے۔بارش اللہ کے اختیار میں ہے وہ فضل ورحمت کا نشان بن کر احمدیت کے لئے اترتی ہے اور فضل و رحمت کا نشان بن کر احمدیت کے لئے ہٹ بھی جاتی ہے جب ہٹنا ہو۔یہ بندے کا اختیار نہیں یہ محض اللہ کا احسان ہے جو جماعت احمدیہ پر دکھایا جاتا ہے جیسا کہ میں بیان کر رہا تھا افریقہ میں بار بابارش میں یہ نشان دکھایا۔آپ کے یہاں بھی بارش کا ایک عظیم نشان حضرت مولوی رحمت علی صاحب کے زمانے کا جو میں نے نظم میں بھی بیان کیا ہے وہ آپ کے سامنے انشاء اللہ تعالی نظم پیش کی جائے گی وہ یہ نشان تھا کہ بہت سے لکڑی کے گھر سینکڑوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے بنے ہوئے تھے۔نہایت