اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 628
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۲۸ خطاب ۳ جون ۲۰۰۰ء کے الگ بیٹھتی ہیں کہ ان کے کپڑوں کی میل ان کو نہ لگ جائے اور پھر آنکھوں آنکھوں میں دوسری عورتوں کو جو امیر ہیں اشارے سے کہہ دیتی ہیں کہ یہ دیکھو ذرا کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور ساتھ یہ بھی فخر کہ اس کے پاس زیور تو کوئی ہے نہیں تو یہ ساری باتیں نہایت ہی لغو باتیں ہیں۔زیوروں کا تو عورتوں کو ایک قدرتی شوق ہوتا ہے ایک عورت نے کہتے ہیں کہ ایک بہت اچھی انگوٹھی بنوائی اور بہت اچھا نگ اس میں جڑا ہوا تھا اور کسی نے نوٹس نہیں لیا وہ پہنتی پھرتی تھی دکھاتی پھرتی تھی سب کو مگر کسی نے مجال ہے جو کوئی تعریف کر دی ہو اور اب یہ مبالغہ صحیح لیکن ہے تو بات دلچسپ کہ آخر اس نے اپنے گھر کو آگ لگادی سب کچھ جل گیا اور باہر جو ہمسائیاں اور ہمسائے اکٹھے ہوئے ہوئے تھے باہر نکل کر ان کو دکھاتی پھری کہ یہ دیکھو اس انگوٹھی کے سوا کچھ بھی نہیں بچا تو پہلی دفعہ لوگوں نے نوٹس لیا کہ اس نے ایک بہت قیمتی انگوٹھی پہنی ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں ایک روز ایک ہندوعورت نے کسی دوسری عورت کا جب گلہ کیا تو اس وقت آپ نے فرمایا ( ہندو عورتیں بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی شکایات اور گلے پیش کیا کرتی تھیں ) چنانچہ اس کی بات سن کر آپ نے فرمایا: دیکھو یہ بہت بُری عادت ہے۔جو خصوصاً عورتوں میں پائی جاتی ہے چونکہ مرد اور کام بہت رکھتے ہیں اس لئے ان کو شاذ و نادر ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ بے فکری سے بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں اور اگر ایسا موقع بھی ملے تو ان کو اور بہت سی باتیں ایسی مل جاتی ہیں جو وہ بیٹھ کر کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم ص:۱۱) یہ تو عمومی دستور ہے لیکن ہمارے بعض علاقوں میں پاکستان میں مردوں کو بھی بہت موقع ملتا ہے۔جب رات کو گھر پہنچتے ہیں تو اپنی بیویوں وغیرہ سے مل کر چغلیاں کرتے ہیں اور ان کو کھانا نہیں ہضم ہوتا جب تک یہ رات کی آخری چغلیاں نہ کر لیں تو وہ علاقے تو میں اب نہیں بیان کر سکتا۔وہ بھی اُن کی اُن سے پردہ اٹھانے والی بات ہوگی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ عادت بعض علاقوں میں دنیا میں مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ایک شخص تھا اس نے کسی دوسرے کو گناہ گار دیکھ کر خوب اس کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ تو دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں تجھ کو میرے اختیارات کس نے دیئے ہیں۔دوزخ اور بہشت