اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 612
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات شامل ہوتی ہیں۔۶۱۲ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں بعض ہندو اور بدھ مذاہب والے لوگ بھی حاضر ہو کر اپنی تکلیفیں پیش کیا کرتے تھے۔ایک روز ایک ہندو عورت نے کسی دوسری عورت کا گلہ کیا کہ فلاں ایسی ہے فلاں مجھے یوں تنگ کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ”دیکھو یہ بہت بری عادت ہے جو خصوصاً عورتوں میں پائی جاتی ہے چونکہ مرد اور کام بہت رکھتے ہیں اس لئے ان کو شاذ و نادر ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ بے فکری سے بیٹھ کر آپس میں باتیں کریں اور اگر ایسا موقع بھی ملے تو ان کو اور بہت سی باتیں ایسی مل جاتی ہیں جو وہ بیٹھ کر کرتے ہیں لیکن عورتوں کو نہ علم ہوتا ہے اور نہ کوئی ایسا کام ہوتا ہے۔“ یہاں یا درکھیں سب دنیا کی عورتیں مراد نہیں ہیں وہ خاص معاشرہ ہے خاص ماحول ہے خاص سوال کرنے والی کا پس منظر ہے جس کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ جواب د۔رہے ہیں۔پس وہ لاعلم عورتیں جو اس معاشرے میں بکثرت پائی جاتی تھیں ان کا ذکر ہور ہا ہے۔فرمایا: اس لئے سارے دن کا شغل سوائے گلہ اور شکایت کے کچھ نہیں ہوتا۔“ فرمایا: ایک شخص تھا اس نے کسی دوسرے کوگناہگار دیکھ کر خوب اس کی نقطہ چینی کی اور کہا کہ تو دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں تجھ کو میرے اختیار کس نے دیئے ہیں۔دوزخ اور بہشت میں بھیجنے والا تو میں ہی ہوں تو کون ہے سو ہر ایک انسان کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ میں ہی الٹا شکار ہو جاؤں۔“ (ملفوظات جلد پنجم ص ۱۱) اب صرف دو اقتباس باقی ہیں اور جب یہ ختم ہوں گے تو میں بھی اس خطاب کو ختم کر دوں گا پھر دعا میں آپ لوگ شامل ہو جا ئیں۔پھر انشاء اللہ آگے آج کا بڑا بھاری دن ہے جس میں شام کی تقریر میں تمام دنیا کی جماعتوں کی ترقیات اور وہ دلچسپ واقعات بیان ہونے ہیں جو اعجازی شان اپنے اندر رکھتے ہیں اس سے انشاء اللہ آپ کے ایمانوں کو بہت تقویت ملے گی۔وہ اعداد وشمار کا بیان