اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 613
۶۱۳ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات کرنے کا دن ہے۔خدا کے فضلوں کو یاد کر رہے ہوں گے لیکن آپ جانتی ہیں کہ اعداد و شمار کے بیان کے وقت بہت سے لوگ توجہ کھو دیتے ہیں۔کسی مقرر نے کہا تھا کہ اگر کوئی سو جائے تو یہ نہیں کہا کہ اس کو چٹکی کاٹو اس نے کہا مجھے چٹکی کاٹو۔تو مجھے چنگی تو نہ کاٹیں لیکن اگر سو جائے تو اس کو جگانے کی ذمہ داری بھی تو میرے اوپر ہی ہے اس لئے میں کوشش یہی کرتا ہوں، بھر پور کوشش کرتا ہوں کہ اعداد و شمار کے مضمون کو ایسے واقعات سے سجاتا چلا جاؤں جو عام فہم ہوں جو دلوں میں محبت پیدا کریں تحریک پیدا کریں اور خدا کرے کہ میں اس میں کامیاب ہو جاؤں تو آج کا دن چونکہ بہت بوجھل دن ہے اس لحاظ سے لیکن بو جھل کیا ہے اللہ ہی ان بوجھوں کا خود اٹھاتا ہے ہمارا تو نام لگتا ہے۔بچوں کے ساتھ ابھی تو یہی سلوک ہے۔بسا اوقات بو جھل چیزیں اس کو دیتی ہیں کہ اس کو اٹھاؤ اٹھاتی خود ہیں اور بچہ سمجھتا ہے میں نے اٹھالی ہے۔ہم بھی اس لحاظ سے بچے ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل چاہئے وہ سارے بوجھ ہلکے کر دے گا صرف دعا ہونی چاہئے۔فرماتے ہیں۔پس ذاتوں پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو۔یہ نیکی کے لئے روک کا باعث ہو جاتا ہے۔ہاں ضروری یہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو۔خدا تعالیٰ کے فضل اور برکات اسی راہ سے آتے ہیں میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی کہ ہم صراط مستقیم پر چلیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور کچی اتباع کریں۔قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستور العمل بنالیں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں نہ صرف قال سے۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقیناً یا درکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہم ہلاک نہیں ہو سکتے اس لئے کہ خدا ہمارے ساتھ ہوگا۔“ اور آخر پر ایک فقرہ ہے صرف ایک ہی فقرہ میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیش کرتا ہوں یہ بہت ہی گہرا ہے بہت عارفانہ ہے۔فرمایا: پلید دل سے پلید باتیں نکلتی ہیں اور پاک دل سے پاک باتیں نکلتی ہیں۔انسان اپنی باتوں سے ایسا ہی پہچانا جاتا ہے جیسے کہ درخت اپنے پھلوں سے۔“