اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 611
حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۱۱ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء شراب کی بوتل میں پانی ڈال کر پاس رکھ لیتے تھے اور گھونٹ پیتے تھے اور مست ہوتے تھے حالانکہ وہ صرف پانی ہوا کرتا تھا دیکھنے والے سمجھتے تھے کہ یہ جو بڑا نیک بنا پڑتا ہے یہ شرابی کہابی ہے اور جب وہ سمجھتے تھے کہ دنیا ہمیں بُری آنکھ سے دیکھ رہی ہے تو خیال کرتے تھے کہ اللہ اب ہم پر فضل کر دے گا۔یہ سب نفس کے بہانے ہیں، سچائی وہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی اس لئے نجات کی راہیں کسی اور فرقے میں اس کی عادات میں تلاش نہیں کرنی چاہئے حقیقت میں تمام نجات کی را ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں سے وابستہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھہ نہ کرے ہو سکتا ہے کہ جن سے ٹھٹھہ کیا گیا ہے وہی اچھے ہوں۔بعض عورتیں بعض عورتوں سے ٹھٹھہ نہ کریں ہوسکتا ہے جن سے ٹھٹھہ کیا گیا ہو وہی ان سے اچھی ہوں۔اور عیب مت لگاؤ اپنے لوگوں کے برے برے نام مت رکھو۔بدگمانی کی باتیں مت کرو اور نہ عیبوں کو کرید کرید کر پوچھو۔ایک دوسرے کا گلہ مت کرو۔تم ایک دوسرے کے چڑ کے نام نہ ڈالو۔ی فعل فساق اور فجار کا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول ص ۲۳) ہر وہ نام جو پیار سے چھوٹا کر دیا جائے وہ اصل نام سے کچھ مختلف تو ہوتا ہے مگر وہ چڑ کا نام نہیں ہے چڑ کا نام وہی ہے جو چھوٹا کیا جائے اور کسی کو پسند نہ ہو کہ میرے متعلق یہ کہا جائے تو ایسے نام نہیں لینے چاہیں جس کو سن کر کوئی شخص چڑ جاتا ہے۔فرماتے ہیں۔” جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس طرح مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔“ ( ملفوظات جلد اول ص ۲۳) یہاں غالباً ایک لفظ چھٹ گیا ہے جو ہونا چاہئے تھا وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس طرح مبتلا نہ ہوگا یہ نہ کا لفظ یہاں لکھنے میں رہ گیا ہے۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو جب ایک ہی چشمے سے گل پانی پیتے ہو تو 66 کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔“ یہاں لفظ بھائی استعمال ہوا ہے مگر تمام خواتین بھی اس میں برابر کی شریک ہیں اور بسا اوقات قرآن کریم کے محاورے سے پتہ چلتا ہے کہ مرد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے لیکن عورتیں بھی اس میں