اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 610

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۱۰ خطاب ۳۱؍ جولائی ۱۹۹۹ء س مشـ ــــــــت خـــــــــاک را گرنه بخشم چه کنم اس خاک کی مٹھی کو اگر میں بخشوں نہیں تو کیا کروں۔یہ میری ہی شان تھی کہ اس خاک کو آسمان تک پرواز دے دی اور اب اس کی بخشش میرے فضل پر ہی منحصر ہے ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم اگر اس خاک کی مٹھی کو میں بخشوں نہیں تو اور کیا کروں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بدظنی کے تعلق میں مولویوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اگر مولوی لوگ ہم سے بدظنی نہ کرتے اور صدق اور استقلال کے ساتھ وہ ہماری باتیں سنتے ہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے تو ان الزامات کو جو وہ ہم پر لگاتے ہیں ہرگز نہ لگاتے۔لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کار بند نہ ہوئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ پر بدظنی کی اور میری جماعت پر بھی بدظنی کی اور جھوٹے الزامات اورا بہتامات لگانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی سے یہ لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے اور یہ لوگ نماز میں نہیں پڑھتے ، روزے نہیں رکھتے وغیرہ وغیرہ۔اب اگر وہ اس بدظنی سے بچتے تو ان کو جھوٹ کی لعنت کے نیچے نہ آنا پڑتا اور وہ اس سے بچ جاتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ بدظنی بہت ہی بری بلا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے اور دوستوں کو دشمن بنادیتی ہے۔صدیقوں کے کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بدظنی سے بہت ہی بچے اور اگر کسی کی نسبت کوئی سوئے ظن پیدا ہو تو کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں کرے تا کہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجہ سے بیچ جاوے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۲۴۶ جدید ایڈیشن) بعض لوگوں کو شاید علم نہیں کہ ایک فرقہ مسلمانوں میں سلامتی فقیروں کا بھی تھا اور ملامتی فقیروں کا حال یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم اگر گندے دکھائی دیں گے تو اس سے ہماری بخشش ہوگی۔چنانچہ ایک