اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 609

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات آپ فرماتے ہیں: ۶۰۹ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء ایک شخص بڑا گناہگار ہوگا خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا۔(ہاتھ سے مراد ہے قدرت سے، بیچ میں کوئی حائل نہیں ہوگا ) اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا فلاں گناہ کیا لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 11 جدید ایڈیشن) تو چھوٹے گناہ کہنے کی تو انسان میں جرات ہوتی ہی ہے وہ کہہ دے گاہاں جی میرے خدا میں نے کئے۔بہت مزے کی حدیث ہے۔یعنی یہ بھی گناہ کیا یہ بھی گناہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ فرمائے گا کہ ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب تجھے دیا ہے۔اب یہ سن کر اس سودائی کو خیال ہوگا کہ چھوٹے گناہوں کا یہ اجر ہے تو بڑے گناہ کیوں نہ بیان کروں۔ان کا تو ہزاروں گنا زیادہ اجر ہوگا یہ سوچ کر وہ کہے گا اب تو مجھے بڑے گناہ بیان کرنے ضروری ہو گئے ہیں وہ اپنے بڑے بڑے گناہ بیان کرنا شروع کر دے گا۔کہ اے خدا! یہ تو کچھ بھی نہیں گویا خدا کو پتہ نہیں تھا میرے تو اندر کھول کر دیکھو اتنے گناہ کئے ہوئے ہیں کہ حساب نہیں اتنا بڑا گناہ ، اتنا بڑا گناہ اور گناہ کے چکر میں پھنس کر اس کا دماغ ہی گھوم جائے گا ایک گناہ سے نکلے گا دوسرے گناہ کی بات شروع کر دے گا۔فرمایا! اللہ تعالیٰ اس کی یہ بات سن کر ہنسے گا کہ دیکھو کیسی جرات ہوگئی بات اور ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔فرمائے گا دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے بندہ دلیر ہوگیا اگر میں مہربان نہ ہوتا تو اس کو کہاں یہ جرات تھی کہ ایسی سچی باتیں کرتا پھر اسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا۔اب دنیا کے تصور میں ہم سمجھتے ہیں گویا گیٹ بنے ہوئے ہیں۔گیٹ نہیں بنے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر گناہ کے بھی کچھ دروازے سے نظر آتے ہیں جن کے ذریعے انسان جہنم میں داخل ہوتا ہے اس نے تو اپنی طرف سے جہنم کے گیٹ بنائے ہوئے تھے۔اللہ فرمادے گا ان سب دروازوں کو میں جنت کے دروازوں میں تبدیل کر دیتا ہوں جیسی پسند ہو جس راہ سے چاہو تو میرے قریب آجا۔اس پر ایک حدیث ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اگر چہ اس کی سند نہیں مگر یہ حدیث بالکل سچی لگتی ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔