اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 605
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۰۵ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء سے کام ہیں جن میں وہ پھنس کر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ غیبت کی بیماری سے نجات پا جاتے ہیں یعنی باہرگئی ہوئی عورتیں اکثر نجات پا جاتی ہیں مگر ہندو پاک میں یہ بیماری بہت پائی جاتی ہے اور ہندو پاک سے مراد یہاں بنگلہ دیش بھی ہے۔بہر حال یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایشیائی مزاج میں یہ بات داخل ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔غیبت کی مجلس میں ان کو بہت مزہ آتا ہے“ اب یہ بات سچی ہے کہ نہیں آپ لوگ اپنے دل ٹول کر دیکھیں بہت لطف اُٹھاتی ہیں جب جلسے سے فارغ ہو کر آپس میں بیٹھتے ہیں اور غیبت کرتے ہیں ایک دوسرے کی ، خیال بھی نہیں کرتے کہ دیکھ یہ کتنی بری بات ہے جو موجود نہیں ہے وہ گویا مردہ بھائی ہے۔مردہ اپنے جسم کا دفاع نہیں کر سکتا جو وہاں موجود نہیں وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔پھر فرمایا: اسی طرح عورتوں میں دوسری عورتوں پر فخر کرنے اور شیخی بگھارنے کی عادت بھی عموماً مردوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔“ عموماً کہہ کر بڑے انصاف سے کام لیا ہے یہ عادت بھی مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اور بعض مردوں میں بہت زور سے پائی جاتی ہے مگر اگر تناسب دیکھیں تو بسا اوقات آپ کو یہی دکھائی دے گا کہ عورتوں میں مردوں کی نسبت یہ عادت زیادہ ہے۔اپنی قومیت پر فخر کرنا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ہیں۔کسی دوسری عورت کے متعلق کہنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے۔نیز اگر غریب عورت ان میں بیٹھی ہوئی ہو تو بعض دفعہ امیر عورتوں کو جوا چھے لباس میں ملبوس ہوں آنکھ ہی آنکھوں میں یہ پیغام دے دیتی ہیں کہ ذرا اس عورت کی طرف بھی دیکھو کپڑے کیسے بھونڈے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص ۲۹) اب یہ پیغام دینا تو عورتوں کو ہی آتا ہے اس کا خاص سلیقہ ان کو حاصل ہے ان کے اندر دیا ہوا ملکہ ہے کہ جس کی کوئی نقالی نہیں ہو سکتی۔ہلکے سے اشارے سے بات سمجھا دیتی ہیں کہ دیکھو اس کے رنگوں کا امتزاج کیسا گندا ہے، کپڑے کیسے بھونڈے ہیں، ہاتھ دیکھے ہیں زیور کوئی بھی نہیں۔اب یہ