اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 56
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۶ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء عورت اور مردکو صرف انسانی تعلقات کے دائرے میں سوچ اور فکر کی دعوت نہیں دیتا قرآن کریم، بلکہ تمام زندگی کے وسیع تر دائرے میں غور اور تدبر کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ انسانی زندگی تو الگ حیوانی زندگی پر بھی غور کر کے دیکھو وہاں بھی ہم نے جوڑوں میں زندگی کو پیدا کیا۔یعنی مرد اور عورت کی بجائے نر اور مادہ کی شکل میں۔اور کیوں کیا؟ اس لئے نہیں کہ ایک فریق پر ظلم ہو بلکہ اس لئے کہ زندگی کی پیدائش اور اُس کی حفاظت کی ضمانت ہو اور اُس سلسلے میں حقوق کو قدرت نے تقسیم کر دیا ہے اور اُن حقوق میں یہ بات بھی داخل فرما دی کہ صرف عورت پر اُس بچے کی پیدائش کی تیاری کی ذمہ داری نہ ہو یا اُس کی پرورش کی ، مرد پر بھی ہو۔اگر چہ تقسیم کا رجیسا کہ انسانوں میں مقرر ہوئی ہے، ویسا حیوانی زندگی میں بھی آپ کو ملتی ہے۔یہ جو قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے یہ ایک بہت بڑا وسیع مضمون ہے۔جن خواتین کو علم حیوانات سے کوئی مس ہے یا وہ با قاعدہ وہ مضمون پڑھ رہی ہیں، وہ اس آیت کا مفہوم زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہیں لیکن آج کل تو اس علم سے براہ راست تعلق رکھنے والے لوگوں کے سوا بھی بہت سا دلچسپ مواد لٹریچر کی صورت میں مہیا ہو چکا ہے یا ٹیلی ویژن ، ریڈیو کے پروگراموں میں آتا رہتا ہے۔بجائے اس کے کہ گندے پروگراموں میں ، لغو پروگراموں میں اپنا اور اپنے بچوں کے وقت ضائع کریں، آپ اس قسم کے پروگرام دیکھیں اور دکھا ئیں اور قرآن کریم کی اس آیت کو پیش نظر رکھ کر جب آپ ان پروگراموں کا مطالعہ کریں گی ، تو آپ کا علم بہت ہی وسیع ہوگا اور آپ قرآنی احکامات کی حکمت کو سمجھنے کی پہلے سے زیادہ اہل ہو جائیں گی۔فرمایا وَ مِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَازَ وَ جَيْنِ ہم نے جو ہر چیز سے جوڑے پیدا کئے ہیں ، اس لئے لَعَلَّكُم اگر یہ علم آپ حاصل نہیں کریں گی تو تَذَكَّرُونَ کا سوال کیسے اُٹھتا ہے۔کس طرح آپ اس پر تدبر کر کے اس کے اچھے نتائج نکالیں گی۔مجھے چونکہ شوق ہے حیوانی زندگی کے مطالعہ کا تو قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں جب میں دیکھتا ہوں ، حیوانی دنیا کے ازدواجی تعلقات کے مختلف ادوار کو ، تو دو طرح سے میری راہنمائی ہوتی ہے اور اُس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ ان تعلقات میں بہت تفاوت بھی پایا جاتا ہے۔بعض تعلقات اور نوع کے ہیں، بعض تعلقات اور نوع کے ہیں۔مختلف حیوانوں میں مختلف قسم کے تعلقات ہیں اور بعض تعلقات عبرت کے لئے ہیں اور بعض تعلقات روشنی اور راہنمائی کے لئے اس لئے اس طرح غور کرنا کہ گویا ہر حیوانی مرد اور عورت یا نر اور مادہ کا تعلق آپ کیلئے را ہنمائی پیدا کر رہا ہے ، یہ بالکل غلط بات ہے۔تَذَكَّرُونَ“