اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 549 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 549

حضرت خلیفت آسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۴۹ خطاب ۶ امر اگست ۱۹۹۷ء اختیار کیا۔اس رویاء میں اپنے آپ کو اور اپنے صحابہ کو آپ نے عمرہ کرتے ہوئے اور حج کرتے ہوئے دیکھا تھا۔غرضیکہ اس سفر میں اس یقین کے ساتھ کہ شاید اللہ کا منشاء۔ابھی اس رؤیا کو پورا کرنا ہے آپ نے سفر اختیار کر لیا۔وہ واقعہ تو ہوا رو یا تو پوری ہوئی مگر یہ بعد کے وقت کے لئے تھی۔وقتی طور پر نہیں تھی مگر آپ کا سفر خدا تعالیٰ نے اس لئے ہونے دیا کہ اس کے نتیجے میں تاریخ اسلام میں بے انتہا عظیم ایسے واقعات محفوظ ہو جانے تھے جو ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے راہنما بنتے اس لئے خدا کا یہ فعل کہ ایک غلط تعبیر کو جو منشاء نہیں تھی اس کو اسی طرح جاری ہونے دیا۔اس میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں مگر ان کی تفصیل میں جانے کا یہ وقت نہیں ہے۔یہ یا درکھیں کہ صحابہ کو جوش یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رویا دیکھی اور جو کفار ہمیں روک دیں اس رؤیا کو پوری کرنے سے یہ نہیں ہوگا۔یک زبان ہوکر تمام صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں اجازت دیں ہم خون کی ندیاں بہادیں گے مگر آپ کی رؤیا ضرور پوری ہوگی اور ہم ضرور مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں جیسا کہ آپ نے دیکھا عمرہ اور حج ادا کیا جائے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خدا کے منشاء کے مطابق اس بات سے رک گئے۔جس کی صداقت بظاہر خطرے میں تھی۔آپ نے اس خطرے کو قبول کیا لیکن الہی منشاء کی خلاف ورزی کو قبول نہ کیا۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو حج اس صورت میں جائز ہے اگر رستہ صاف ہے، رستے کا امن میسر ہو اور چونکہ امن میسر نہیں ہے اس لئے میری رؤیا کا حال خدا پر کھلا ہے وہ جانے اور میری رویا جانے مگر میں خدا کے واضح منشاء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خون بہاتا ہوا مکہ میں داخل نہیں ہوں گا۔تمام صحابہ اس پر اس قدر یخ پاتھے۔سیخ پا تو نہیں کہنا چاہئے بھنا گئے۔ان کی عقلوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ بات سمجھائی کہ سفر حج میں جہاں رو کے جاؤ ہیں قربانیاں کر دو۔جس کا ذکر میں نے کل بھی کیا تھا یا کسی سوال جواب کی محفل میں اس کا ذکر ہوا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو کہا کہ اُٹھو اور قربانیاں کرو۔ایک بھی نہیں اُٹھا بڑے بڑے عظیم صحابہ شامل تھے۔اس قدر دکھ ہوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ، اس قدر تکلیف پہنچی کہ آپ اپنی بیوی ام سلمہ کے پاس آئے۔ام سلمہ! ان کو کیا ہو گیا ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ اٹھو اور قربانیاں پیش کرو اور ایک بھی نہیں ہے جو اٹھا ہو۔یہ ام سلمہ ہیں ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے جو ہمیشہ ہمیش کے لئے اسی طرح آسمان پر چاند سورج کی طرح چمکتا رہے گا۔آپ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی محبت اور عشق میں کوئی کمی نہیں ، آپ نہیں جانتے ان