اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 548

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۴۸ خطاب ۶ اسراگست ۱۹۹۷ء رہتی تھی یہاں تک کہ شام ہو جاتی تھی ہر روز میرا یہ معمول تھا کہ مکہ کے باہر ریت کے ٹیلوں پر جا کر اپنے چھینے ہوئے خاوند اور اپنے چھینے ہوئے بیٹے کو یاد کرتی اور صبح سے شام تک آنسو بہاتی تھی۔ایک دن ایک قبیلے کے آدمی کو مجھ پر رحم آ گیا۔اس نے کہا کہ تم کیوں اس مسکین عورت پر ظلم کر رہے ہو۔تم نے اس کا خاوند چھین لیا، اس کے بیٹے کی جدائی ڈال دی یہ ظلم ہے تم اس ظلم سے باز آ جاؤ۔اس پر فرماتی ہیں کہ میرا بچہ میرے سپرد کر دیا گیا اور اس کے بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی چنانچہ اس بیٹے کو اُٹھائے ہوئے مدینہ کی طرف اس وقت روانہ ہوئیں اور اس ہجرت میں یہ پہلی تھیں جنہوں نے دین کی خاطر اتنے دکھ اُٹھائے اور دین ہی کی خاطر ایک وطن کو چھوڑ کر ایک اور وطن کو قبول کیا۔ابوسلمہ غزوہ احد میں زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر آپ نے وفات پائی۔اب غزوہ احد جو چوتھے سال میں واقعہ ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عمر ۵۳ اور ۴ سال ۵۷ سال ہو چکی تھی اور آپ نے ابوسلمہ کی بیوہ سے جواحد میں شہید ہوئے تھے کسی نفسانی غرض کے لئے شادی نہیں کی تھی بلکہ ان کو سنبھالنے کے لئے ان کا سہارا بننے کے لئے ، ان کی نیکیوں کو دیکھتے ہوئے شادی کی تھی۔پس اس پہلو سے حضرت ام سلمہ کو ایک بہت بڑا مقام حاصل ہے اور آپ کی عقل اور فراست کو، جس پر سورۃ فتح نازل ہوئی ہے، اس فتح میں حضرت ام سلمہ کا ایک بہت بڑا دخل تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سفر میں صرف حضرت ام سلمہ کو ساتھ رکھا ہے۔یہ بہت ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی فراست کی بار یک باتیں ہیں جن پر آپ کو نظر رکھنا چاہئے۔حضرت ام سلمہ چونکہ ہجرت میں پہلی تھیں اور مدینہ کی طرف آپ نے پہلی ہجرت کی تھی۔اس لئے فتح کے ساتھ حج کے وقت کے میں داخل ہونے کے لئے آپ نے صرف ایک بیوی کو چنا اور وہ حضرت ام سلمہ تھیں اور ان کا چنا جانالازماً الہی منشاء تھا کیونکہ آپ کی فراست تھی جس نے مسلمانوں کو اس دور کے صحابہ کو ایک ایسے داغ سے پاک کر دیا جو ہمیشہ کے لئے ان کے سینوں میں لگا رہتا، جب صلح حدیبیہ کے وقت ، حدیبیہ کے میدان میں کفار مکہ نے آپ کو حج کرنے سے روک دیا اور یہ کہا کہ ہماری ننگی تلواریں ہیں جو تمہارا راستہ روکیں گی۔خون بہاتے ہوئے اگر ز ور اور جبر کے ساتھ تم مکے میں داخل ہو سکتے ہو تو ہو جاؤ لیکن امن کی حالت میں تمہیں داخل نہیں ہونے دیں گے۔وقت ایسا تھا کہ صحابہ کے دل جوش سے گویا ان کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا۔اتنا زیادہ جذبہ تھا کہ اس جذبے کے سمجھنے کے لئے بھی ذرا ٹھہر کر غور کرنا پڑتا ہے کہ وہ جذبہ تھا کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک رؤیا دیکھی تھی اس رؤیا کے مطابق آپ نے وہ سفر