اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 544
۵۴۴ خطاب ۶ امراگست ۱۹۹۷ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ساتھ ساتھ جاری تھیں اور نیکی کے حوالے سے ہو رہی تھیں۔ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تمہیں پتا ہے کہ جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے علم ہو جاتا ہے۔حضرت عائشہ نے اس پر یہ تعجب نہیں کیا کہ ناراض ہوتی ہوں۔تو ظاہر ہے میرے چہرے پہ ظاہر ہوتا ہے علم تو ہو جانا تھا اس میں کون سی ہوشیاری کی بات ہے۔پہلی بات یہ قابل غور ہے کہ حضرت عائشہ کے چہرے پر ذرا بھی ملال نہیں آیا کرتا تھا۔اگر وہ ناراض ہوتی تھیں تو دل میں ہوا کرتی تھیں۔اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں پتا ہے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتا چل جاتا ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا آپ کس بات سے اس کو پہچان جاتے ہیں۔آگے جا کر یہ بات کھل جائے گی حضرت عائشہ کے رویے میں ذرہ بھر بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوا کرتی تھی اس لئے آپ کو تعجب ہوا کہ پہچانتے کیسے ہیں۔میرے اندر تو کوئی ناراضگی کے آثار ظاہر نہیں ہوتے۔فرمایا: میں اس طرح پہچانتا ہوں کہ جب تم مجھ سے خوش ہو تو کہتی ہو لَا وَرتِ مُحَمَّد نہیں نہیں مجھے محمد کے رب کے قسم۔اور جب مجھ سے ناراض ہو تو کہتی ہو لَا وَرتِ إِبْرَهِیمُ نہیں نہیں ابراہیم کے خدا کی قسم۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ابراہیم علیہ السلام دو ماڈل تھے۔جب دل سے کسی قسم کی ناراضگی یا شکوہ ہو تو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بجائے ابراہیم کی قسم کھایا کرتی تھیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا بے شک اسی طرح ہے خدا کی قسم یا رسول اللہ ! جب آپ سے ناراض ہوتی ہوں تو صرف آپ کا نام لینا چھوڑ دیتی ہوں میرا دل اسی طرح محبت سے بھرا ہوا ہوتا ہے میرے دل کی محبت میں ایک ذرہ بھر بھی فرق نہیں آتا اور جب دل کی محبت میں فرق نہیں آتا تو پہچانا کیسے آپ نے بس یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور عائشہ کی چولیں ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی فراست کا بیان ہے کس طرح بار یک نظر سے اپنی بیوی کی باتوں کو ان کے آثار کو پڑھتے تھے اور اس پہ ایک صحیح نتیجہ نکالا کرتے تھے۔حضرت عائشہ کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ ناراض ہوتی بھی تھیں تو دل میں اسی طرح محبت موجزن ہوتی تھی محبت پر ایک ذرہ بھی اثر نہیں پڑتا تھا۔اب یہ باتیں چھوٹی چھوٹی سی باتیں ہیں بظاہر لیکن اپنی زندگیوں میں آپ دیکھ لیں کہ کیا آپ کی ناراضگیاں آپ کی دل کی محبت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔بسا اوقات میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ خاوند کی طرف سے عدم توجہ کے نتیجے میں یا کسی اور بناء پر عورت کے دل میں ناراضگی ہوتی ہے تو اس کی محبت بھی اس ناراضگی سے متاثر ہوتی ہے اور اس کی ناراضگی دل میں اس کی محبت میں ایک قسم کا