اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 539
حضرت خلیفہ اسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۵۳۹ خطاب ۶ ا ر ا گست ۱۹۹۷ء نہیں بلکہ خدا کی طرف لے جانی والی ہو اس کو دیکھ کر شرک کا شائبہ بھی دل میں پیدا نہ ہو وہ تصویر تو خود جبرائیل علیہ السلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تھی اس لئے تصویر کا مسئلہ بھی اس میں ضمناً حل ہوتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں، اس روایت کے الفاظ صحیح مسلم میں یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے رویا میں تین بار دکھائی گئی ہو ایک فرشتہ سفید رنگ کے ریشم میں تمہاری تصویر لایا تھا اور کہتا تھا یہ تمہاری بیوی ہے جب میں نے کپڑا ہٹا کر چہرہ دیکھا تو اندر سے تمہاری تصویر نظر آئی۔اب بعض مولوی دماغ یہ سوچیں گے کہ پھر ریشم بھی جائز ہے ریشم عورتوں کے لئے جائز ہے اور ریشم پر عورت کی تصویر تھی اس لئے یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ریشم کو استعمال کیا یہ غلط ہے یہ کشفی نظارہ تھا اور کشفی نظارہ میں بھی یہ لحاظ رکھا گیا تھا کہ ایک ریشمی کپڑے پر ایک ریشمی صفات خاتون کی تصویر ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس سے تمہاری شادی مقدر ہو چکی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! اگر اللہ کا یہی منشاء ہے تو خود ہی اس کو پورا فرمائے گا حضرت عائشہ کا دوسری بیویوں کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بہت لحاظ رہتا تھا۔اس لحاظ میں بھی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل میں ایک تقدس تھا جس کے نتیجے میں حضرت عائشہ سے محبت پہلے سے بڑھ گئی۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دفعہ دوسری خواتین میں سے جو آپ کی ازواج مطہرات تھیں بعض نے حضرت عائشہ کے متعلق اس رنگ میں بات کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند نہ آئی آپ نے فرمایا! تم مجھے عائشہ کے متعلق کیوں تکلیف دیتی ہو۔عائشہ کی شان گویا یہ ہے کہ اس کے بستر کے علاوہ کسی اور بیوی کے بستر میں مجھے وحی نہیں ہوتی یہ ایک عظیم بیان ہے۔حضرت عائشہ کے دل کی پاکیزگی اور تقدس کا بیان ہے ،حضرت عائشہ سے محبت کی بنیادی وجہ اس سے کھلتی ہے۔اس بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کے بستر میں وحی نازل ہوتی رہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عائشہ سے محض جسمانی نسوانی محبت نہیں تھی بلکہ آپ کے دل کی پاکیزگی کا آپ کو خیال تھا اور جس کے بستر پر وحی نازل ہو رہی ہواس میں نفسانیت کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے اس لئے بعض لوگ جود ثمن حضرت عائشہ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ چھوٹی سی عمر میں شادی کر لی اس میں نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نفسانی جذبات تھے تو ان کو سوچنا چاہئے کہ جس کے بستر میں اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہو رہا ہو اس میں نفسانی جذبات کا کیا دخل