اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 536
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۶ خطاب ۶ ار اگست ۱۹۹۷ء ہوگی۔یہ واقعہ جب حضرت نے اس کو صحیح مسلم میں روایت کیا ہے۔یہ واقعہ جب گزرا تو اس کے تھوڑی دیر بعد ہی حضرت خدیجہ وہاں آ پہنچی اور حضرت خدیجہ کی روایت سنیں کہ آپ نے اس کو کیسے سنا وہ فرماتی ہیں۔آپ نے جو فرمایا ہے اس کو میں تھرڈ پرسن یعنی غائبانہ طور پر یوں بیاں کر رہا ہوں ایک روز آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے کھانا لئے ہوئے حضور کی تلاش میں مکہ کی پہاڑیوں کی طرف نکلیں راستے میں آپ کو جبرائیل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل میں دکھائی دیئے۔جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں پوچھا حضرت خدیجہ ڈرگئیں کہ یہ شخص کہیں نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نقصان نہ پہنچانا چاہتا ہو اور خاموشی اختیار کی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو تمہیں رستے میں ملے تھے انہوں نے مجھے کہا ہے کہ میں تمہیں خدا کا اور ان کا سلام پہنچاؤں اور جنت میں ایسے گھر کی بشارت دوں جو موتیوں والا ہو۔اس خوش خبری کو سن کر حضرت خدیجہ کا جواب ہے بہت ہی پیارا ہے مجھے تو اس جواب میں بہت ہی لذت محسوس ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے اور جبرائیل علیہ السلام پر بھی سلام ہو اور آپ پر بھی سلام اور خدا کی رحمت ہو یہ سلامتی کی باتیں ہیں تو سب سے بڑا تو اللہ ہے جو خود سلام ہے اس کا سلام مجھے پہنچے تو گویا خدا مجھ تک پہنچ گیا اور پھر آپ کبھی سلام ہیں اور جبرائیل بھی۔آپ سب پر میری طرف سے وعلیکم السلام ہے کہ اللہ آپ کو بھی اپنی سلامتی میں رکھے۔حضرت خدیجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسی محبت تھی کہ حلیمہ دائی سے پہلے ابولہب کی لونڈی جس نے آپ کو دودھ پلایا تھا اور وہ مسلمان ہوگئی تھیں ان کو آزاد کرانے کے لئے آپ نے ابولہب کو پیغام بھیجا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دائی کو ایک ابو لہب جیسے انسان کی لونڈی کے طور پر دیکھ نہیں سکتی تھیں۔شعب ابی طالب میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ے سے انبوی تک آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور انتہائی تکلیف میں یہ وقت گزارا۔جب یہ دور ختم ہوا تو اس کے معا بعد آپ کے چچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چا ابوطالب کی وفات ہوئی اور ابو طالب کی وفات کے تین دن بعد حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی اور حضرت خدیجہ کی وفات کی وجہ سے خصوصیت سے تاریخ اسلام میں اس سال کو یعنی دس نبوی کو عام الحزن قرار دیا گیا۔مؤرخین نے اسے عام الحزن قرار دینے میں یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غم کا تصور باندھا ہوگا کیونکہ کسی کی وفات سے