اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 529
حضرت خلیفہ اس الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۲۹ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء اب آخر پر میں افریقہ کو مخاطب ہوتا ہوں۔افریقہ میں احمدی خواتین سے ویسی خدمت نہیں لی جارہی جیسی دنیا کی باقی قوموں میں لی جارہی ہے اور افریقہ میں شدید ضرورت ہے کہ لکھوکھا ہونے والی بیعتوں میں، ان میں سے خواتین اپنی ذمہ داری ادا کریں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی تک جو افریقہ میں مردوں کو بیدار کیا جارہا ہے، اگر افریقہ کی عورت کو احمدیت کے لئے بیدار کیا گیا تو چند سالوں میں تمام افریقہ میں وہ انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔افریقن عورت میں یہ خوبی ہے کہ وہ افریقہ کے ہر ملک کی افریقن عورت اپنے مردوں سے زیادہ کام کرتی ہے۔آپ کو شاید انداز نہیں مگر میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے۔افریقن عورتوں میں جتنی محنت کی عادت ہے اور جس سلیقے سے وہ کام کرتی ہیں، ان کے مردان سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں حکومت تو وہ چلاتے رہیں تعلیم کے بعض شعبوں میں وہ آگے ہیں لیکن دیہات میں کھیتوں میں کام کرنا، بچے اٹھائے ہوئے۔ایک آگے ٹوکری میں ڈالا ہوا ہے، ایک پیچھے پھینکا ہوا۔کچھ ہاتھ کی انگلی پکڑے ساتھ چلتے ہوئے اور ساتھ کھیتوں میں خدمت ہو رہی ہے۔پھر دکانیں بھی وہی چلاتی ہیں۔اکثر کمائیاں عورتیں کرتی ہیں۔مردوں کا کام تو روٹی کھانا ہے وہاں۔یا پھر اپنی شان و شوکت دکھانا ہے۔میں سارے مردوں کی بات نہیں کر رہا۔کچھ ناراض بھی ہوں گے شاید مگر امر واقعہ یہ ہے کہ افریقہ میں احمدی عورت ، خدا کے فضل سے، بہت بڑا کام سرانجام دے رہی ہے۔اگر یہ عورتیں، خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ، جماعت کے حق میں اس طرح بیدار ہو کے اٹھ کھڑی ہوں، جس طرح میں نے باقی دنیا میں نقشہ کھینچا ہے ، تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چند سالوں کے اندر سارے افریقہ کی تربیت بدل جائے گی۔پس آئیے، میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب خواتین کو جنہوں نے احمدیت کی خدمت میں کار ہائے نمایاں سرانجام دئے ہیں، ان خواتین کو بھی ، جن کو میں جانتا ہوں ،ان خواتین کو بھی جن کو میں نہیں جانتا، ان پر خدا کی نظر ضرور ہے، ان سب کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ دین اور دنیا میں ان کو بہترین جزاء دے۔ان کو نیکیوں کا چسکا پڑ چکا ہے اور مخالف معاشرے کا اس سے بڑھ کر بہتر کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔کئی تحقیق کرنے والے میرے پاس آتے ہیں میں کہتا ہوں ان بچیوں سے جاکے پوچھو کہ ان کو کیا جنون کا سودا ہے کہ یہ دن رات مسجد میں رہتی ہیں۔ایک MTA ٹیم ہے۔اس میں رقیہ گلزار ہیں اس کی ساتھی ہیں اکثر ان کو میں نے دن ہو یا رات ہو، وہیں کام کرتے دیکھا ہے۔اتنی خواتین احمدیت کی خدمت میں مصروف ہیں کہ باہر کی دنیا