اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 519

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۹ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء بچیاں ان میں ایک ہماری فوت ہو چکی ہیں روحی بانو۔اللہ ان کو غریق رحمت کرے وہ بھی ان کی بہت مدد کیا کرتی تھیں مگر اس وقت امتہ الباری ناصر اور مسز ناصر ملک یہ ان کے بازو ہیں اور اپنے اپنے دائرے میں غیر معمولی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ان بچیوں کو خصوصاً اشاعت کتب میں بہت مہارت حاصل ہے اور امتہ الباری ناصر کے تحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت کثرت سے چھوٹے چھوٹے رسائل جو مختلف موضوعات پر اور بہت اچھے رسائل ہیں ، وہ شائع ہو چکے ہیں اور ہر سال نئے سے نئے شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے علاوہ کراچی کی رپورٹوں سے مجھے پتہ چل رہا ہے کہ وہاں بھی احمدی خواتین تبلیغ کے میدان میں آگے نکلی ہیں اور خدا کے فضل سے بہت سے اچھے کام سرانجام دے رہی ہیں مگر ان کی تفصیل یہاں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہومیو پیتھک کا جہاں تک تعلق ہے ، وہاں اس میں کوئی غیر معمولی کام تو وہاں نہیں ہوالیکن میرا خیال ہے کہ اب جب یہ کتاب شائع ہو چکی ہے اور اس وقت یہاں سٹال پر پل رہی ہے، اس کے نتیجے میں انشاء اللہ وہاں ہو میو پیتھک کی طرف بھی مزید توجہ ہوگی۔میں اس لئے اس کی طرف توجہ چاہتا ہوں کہ تبلیغ کے لئے ایک بہت ہی اہم ذریعہ ہے اور بہت تھوڑے خرچے پر۔ہر احمدی گھر ، اپنے گھر میں ہومیو پیتھک کی دوائیں رکھ سکتا ہے۔ہمارے گھروں میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ڈاکٹروں کو دکھانے کی ضرورت نہیں۔یہاں مونا اور اس کا بچہ بھی بیٹھا ہوا تھا ، وہ کہاں چلا گیا ہے؟ اچھا یہ بچہ ہے ہر طرح سے بیمار ہو ہو کر اس نے دیکھ لیا ہے، جب بھی شفا ہوتی ہے، ہومیو پیتھک سے ہی ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے ان بچیوں کا یقین بڑھتا جا رہا ہے، ماشاء اللہ۔ہمارے گھر میں تو اب ایلو پیتھک گھس کے بھی نہیں دیکھتی۔جب ضرورت پڑے کبھی خالہ بھاگی آئی کبھی طوبی بھاگی آئی کبھی کوئی بھا گا آیا کہ ابا فلاں آپ نے نسخہ ایک دفعہ بتایا تھا وہ ذرا دوبارہ بتادیں۔میں دوبارہ بتا بتا کے تھک گیا ہوں۔انہوں نے یاد کرنے کی نہیں سوچی کیونکہ گھر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ان کو پتہ ہے، جب ضرورت پڑی ہم آپ ہی پوچھ لیں گے۔اور وہ نسخے پہلے بتا بھی چکا ہوں لکھا بھی چکا ہوں۔اس کے مختلف قسم کی بیماریوں کے لئے ، ان کو ڈبے بھی دے چکا ہوں۔وہ سب ڈبے ایک طرف ،سب نسخے ایک طرف آخر میں پھر ابا ہی پڑتے ہیں ضرورت کے وقت اور خیر کوئی بات نہیں۔مجھے بھی ان کی خدمت سے خوشی ہوتی ہے۔کم از کم اس بہانے ملنا رہتا ہے ہمارا۔ورنہ اکثر تو میرا وقت دفتر میں گزرتا ہے اور کھانے پہ سرسری ملاقات ان بچیوں سے ہوتی ہے۔مگر بیماری کے بہانے اکثر ملاقات رہتی ہے۔