اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 514
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۴ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء وہ بالکل الگ اور ممتاز ہے۔اس مختصر ذکر کے بعد ، کیونکہ اس مختصر ذکر کے سوا میں لمبی باتیں آپ سے کر نہیں سکتا۔جو باتیں مجھے علم ہے کہ وہاں خواتین کر رہی ہیں وہ بہت ہی خوشکن ہیں۔میرا دل راضی ہے، دل کی گہرائی تک راضی ہے، ان کے لئے دعائیں خود بخو د دل سے اچھلتی ہیں۔دوسرا مختصر ذکر مجھے جرمنی کا کرنا ہے کہ جرمنی میں ہر وہ کام جو میں نے کرنے کے لئے کہا اس پر احمدی خواتین نے بڑے زور کے ساتھ لبیک کہی۔بڑی بھی چھوٹی بھی اور خصوصاً نو جوان بچیاں بڑے زور کے ساتھ آگے آئی ہیں اور بہت اہم کاموں کے جھنڈے انہوں نے اپنے ہاتھوں میں تھام رکھے ہیں۔اس سلسلے میں مختلف چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ میں نے جو Research Cell کی تحریک کی تھی جس کی بناء یہاں ڈالی، اب جرمنی کے Research Cell میں سینکڑوں نہیں ، تو سو سے زائد یقیناً ایسی بچیاں شامل ہو گئی ہیں، جو دن رات اسلام کی خاطر Research میں مصروف ہیں۔Bible Research کے سلسلے میں بھی انہوں نے بہت مجھے مدددی ہے۔دیگر معاملات میں Research کے لئے انہوں نے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پوری طرح بیدار اور ہمہ وقت اس میں مصروف اور اس بات میں خوش ہیں کہ ہم ایک نیک کام سرانجام دے رہی ہیں۔جہاں تک MTA کا تعلق ہے، ہزاروں بچیاں ایسی ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو جرمنی میں MTA کے لئے وقف کر رکھا ہے۔اس کے علاوہ تبلیغ کے معاملے میں بھی اب یہ میدان میں نکل آئی ہیں، مسجدیں بنانے کے سلسلے میں بھی یہ میدان میں نکل آئی ہیں۔کوئی بھی ایسی تحریک میں نہیں کرتا جس میں یہ کسی پہلو سے بھی پیچھے رہیں بلکہ دنیا کی تمام خواتین کو پیچھے چھوڑنے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔اس کا ایک زائد فائدہ یہ ہے کہ ان ممالک میں ہماری بچیاں ایک زہریلے ماحول میں پل رہی ہیں، کثرت کے ساتھ ایسی تھیں جو غیروں کے رحم و کرم پر تھیں۔چند سال پہلے جب میں جرمنی جایا کرتا تھا، تو ان کے سوالوں سے مجھے معلوم ہوتا تھا کہ یہ خطرے میں ہیں۔طرح طرح کے مخالف ماحول کے سوا جو اس کے دل میں گڑھتے تھے کہ ان کو نسبتاً زیادہ آزادی دینے والے تھے۔ان کی انفرادی آزادی جومعاشرے کے خلاف یا ماں باپ کے مذہب کے خلاف تھی اس کو وہ تقویت دیتے تھے۔اب وہ زمانے گئے۔اب کہاں ؟ اب تو یہ خدا کے فضل سے شیروں کی طرح غراتی ہوئی غیروں پر حملے کر رہی ہیں۔تمام سکولوں میں احمدی لڑکیاں بیدار ہو گئی ہیں اور سکول والیوں کو اسلام کی تبلیغ میں ، اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس طرح مصروف کر دیا ہے کہ اب یہ جہاں جاتی ہیں ، خدا کے فضل سے، اسلام کی مجاہدہ